مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی صدارت میں اعلیٰ سطح کی ایک کمیٹی نے تخفیف کیے جانے، بحال کیے جانے اور تعمیرِ نو کے کئی پروجیکٹوں کو منظوری دی ہے، جس پر تقریبا چار ہزار 645 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ اِس سے 9 ریاستوں آسام، کیرالہ، مدھیہ پردیش، اڈیشہ، راجستھان، اترپردیش، بہار، چھتیس گڑھ اور آندھرا پردیش کو فائدہ حاصل ہوگا۔ مرکزی وزارت داخلہ نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے قدرتی آفت کی صورت میں مزاحم بھارت کے خواب کو پورا کرنے کی غرض سے وزارت، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کر رہی ہے۔ کمیٹی نے آسام کیلئے 692 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ دلدلی زمین سے متعلق منصوبے کی بحالی اور تعمیرِ نو کی منظوری دی ہے۔
اِس پروجیکٹ پر عمل آوری سے دلدلی زمین کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا، سیلاب کے پانی کو ذخیرہ کیا جاسکے گا، سیلاب کی صورت میں مزاحمت کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا، اِس سے آبی ماحول کا تحفظ ممکن ہوگا نیز ماہی گیری کے بہتر بنیادی ڈھانچے کے ذریعے اقتصادی ترقی میں تعاون ملے گا۔ اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے گیارہ شہروں کیلئے شہروں میں سیلاب کے خطرے کی صورت میں بندوبست کے پروگرام کے دوسرے مرحلے کو بھی منظوری دی ہے۔ اس کے تحت بھوپال، بھونیشور، گواہاٹی، جے پور، کانپور، پٹنہ، رائے پور، تریویندرم، وشاکھاپٹنم، اندور اور لکھنؤ شامل کیے گئے ہیں، جس پر 2 ہزار 444 کروڑ روپے سے زیادہ کے مجموعی بجٹ کو منظوری دی گئی ہے، جس کیلئے فنڈ، قومی آفت کی تخفیف سے متعلق فنڈز سے جاری کیا جائے گا۔
وزیر خزانہ، وزیر زراعت اور نیتی آیوگ کے نائب سربراہ پر مشتمل کمیٹی نے ریاستوں کو مالی تعاون فراہم کرنے کی تجویز پر غور کیا۔ x