October 16, 2025 9:51 PM

printer

وزارت خارجہ نے آج کہا کہ بھارت، افغانستان اور پاکستان کے درمیان صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے

وزارت خارجہ نے آج کہا کہ بھارت، افغانستان اور پاکستان کے درمیان صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔ آج تیسرے پہر نئی دلّی میں میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے، وزارت کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ پاکستان دہشت گرد تنظیموں کی قیام گاہ ہے اور وہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کی اعانت کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی پرانی روش رہی ہے کہ وہ اپنی ناکامیوں کیلئے پڑوسیوں کو الزام دیتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان، افغانستان کے اپنے علاقوں پر خودمختاری برقرار رکھنے پر برہم ہے اور بھارت، افغانستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کے تئیں پوری طرح عہد بند ہے۔ کابل میں بھارتی مشن کو اپ گریڈ کرنے سے متعلق جناب جیسوال نے کہا کہ بھارت کا تکنیکی مشن جون 2022 سے کابل میں کام کر رہا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اسے سفارتخانے میں تبدیل کرنے کا کام آئندہ چند دنوں میں کرلیا جائے گا۔ Nayara پر برطانیہ کے ذریعے حال ہی میں اعلان کردہ پابندیوں سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے جناب جیسوال نے زور دے کر کہا کہ برطانیہ کسی طرح کی عالمی پابندیاں عائد کرنے کا اہل نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت توانائی کے تحفظ کے معاملے کو، اپنے شہریوں کی بنیادی ضرورت پوری کرنے کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل سمجھتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ بھارت کی کمپنیاں دنیا بھر سے توانائی کی فراہمی حاصل کرتی ہیں جس میں وہ مارکیٹ کی مجموعی صورتحال کے جائزے کو مدنظر رکھتے ہیں۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ کسی طرح کا دوہرا معیار نہیں ہونا چاہئے، خاص طور پر اُس وقت جب یہ توانائی کی تجارت سے متعلق ہو۔
اِس بات پر کہ تیل کی درآمدات سے متعلق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان کوئی بات چیت ہوئی ہے، ترجمان نے کہا کہ گذشتہ روز دونوں لیڈروں کے درمیان کسی طرح کی بات چیت ہونے کے بارے میں انھیں کوئی علم نہیں ہے۔ اس سے قبل وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ موجودہ امریکی انتظامیہ نے بھارت کے ساتھ توانائی کے تعاون کو گہرا کرنے میں دلچسپی دکھائی تھی اور اس کیلئے تبادلہ خیال جاری ہے۔ ملک کی توانائی کی سورسنگ سے متعلق میڈیا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے رندھیر جیسوال نے کہا کہ بھارت کئی سالوں سے اپنی توانائی کی خریداری کو توسیع دینے کی کوشش کر رہا ہے جس میں گذشتہ دہائی میں بہتر پیشرفت ہوئی ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ ملک کی تیل درآمد کرنے کی پالیسیاں، توانائی کی اُتھل پتھل صورتحال میں بھارتی صارفین کے مفادات کے تحفظ کے مقصد پر مرکوز ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پائیدار توانائی کی قیمتوں کو یقینی بنانا نیز محفوظ فراہمی، ملک کی توانائی کی پالیسی کے دو کلیدی مقاصد ہیں۔

 

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔