نیشنل میڈیکل کمیشن کی جانب سے MBBS اجازت نامہ واپس لیے جانے کے ساتھ شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی آف میڈیکل سائنس، تعلیمی سال 2025-26 میں داخلہ لے چکے طلبا کو جموں و کشمیر کے دیگر میڈیکل کالجوں میں منتقل کرے گا۔

جموں وکشمیر کے ریاسی میں واقع شری ماتا ویشنو دیوی  انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس کا تعلیمی سال 2025-26 کا پچاس MBBS سیٹوں کا اجازت نامہ LoP منسوخ کردیا گیا ہے۔ قومی میڈیکل کمیشنNMC  کے میڈیکل جانچ اور ریٹنگ سے متعلق بورڈ، MARB نے طے کردہ کم از کم پیمانوں کی عدم تکمیل کے باعث میڈیکل کالج کو دیا گیا  اجازت نامہ واپس لے لیا ہے۔

گذشتہ روزMARB  کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی سال 2025-26 کی کاؤنسلنگ کے دوران کالج میں داخلے لے چکے سبھی طلبا کو جموں و کشمیر کے دیگر میڈیکل کالجوں میں ضم کردیا جائے گا۔

          اِن طلبا کا انضمام مرکز کے زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کے مجاز اتھارٹی کی جانب سے Supernumerary  سیٹوں کے طور کیا جائے گا۔ اِس حکم نامے کے بارے میں جموں و کشمیر محکمہئ صحت، طبی تعلیم کے ڈائریکٹر، SMVD یونیورسٹی حکام اور صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کو ضروری کارروائی اور تعمیل کیلئے آگاہ کردیا گیا ہے۔

          حکم نامے کے مطابق طے کردہ کم از کم پیمانوں کی عدم تکمیل کے معاملے کا، اچانک ہوئے جائزے کے دوران انکشاف ہوا، جن میں اساتذہ کی تعداد، طبی آلات اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق مجوزہ میڈیکل کالج میں سنگین کمیاں پائی گئیں۔ قومی میڈیکل کمیشن کا فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگیا ہے۔

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔