نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھا کرشنن نے آج کہا ہے کہ ایک وکست بھارت کا نظریہ تبھی حقیقت میں بدل سکتا ہے، جب ملک کے نوجوان نشیلی اشیاء کے استعمال سے پاک، صحت اور اپنے مقصد کیلئے کارفرما رہیں۔ جناب رادھا کرشنن نے یہ بات قومی راجدھانی میں، دلّی یونیورسٹی کی نشیلی اشیاء سے پاک کیمپس مہم سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ یہ مہم، حکومت کے ”نشہ مکت بھارت ابھیان“ سے پوری طرح مطابقت رکھتی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر کہا کہ نشیلے مادوں کا غلط استعمال ایک سماجی چیلنج، صحت عامہ کو لاحق تشویش اور ملک کی آبادی کو بانٹ دینے کے تئیں خطرہ ہے۔
جناب رادھا کرشنن نے خاص طور پر کہا کہ یہ ہر وقت ہر ایک کی ضرورت ہے کہ وہ خود کو نشیلی اشیاء سے بچائے رکھے۔ انہوں نے اِس ضرورت پر زور دیا کہ نشیلی اشیاء کی روک تھام کیلئے آواز اُٹھائی جائے اور اِن کے خلاف ہر ایک کو بیدار کیا جائے۔ جناب رادھا کرشنن نے کہا کہ نشیلی اشیاء سے لوگوں کی جسمانی اور دماغی صحت میں خرابی پیدا ہوتی ہے۔