نئے سلسلے کی GST اصلاحات ملک کے بالواسطہ ٹیکس نظام کو سہل بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔

نئے سلسلے کی GST اصلاحات ملک کے بالواسطہ ٹیکس نظام کو سہل بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ اب عوام GST اصلاحات کا فائدہ حاصل کرسکتے ہیں، جو اِس مہینے کی 22 تاریخ سے نافذ ہو چکی ہیں۔

نئے ڈھانچے کے تحت متعلقہ GST کونسل نے 5، 12، 18 اور 28 فیصد کے 4 زمروں والے ٹیکس نظام کو اب   5 اور 18 فیصد کے 2 زمروں میں سہل بنا دیا ہے۔ ہمارے نامہ نگار نے کہا ہے کہ کئی طرح کی اشیاء اور خدمات پر ٹیکس شرح کم ہونے سے لوگوں کو بڑی راحت مل رہی ہے۔

متعلقہ GST کونسل نے بالواسطہ ٹیکس نظام میں بڑی اصلاحات کو منظوری دی ہے۔ شرحوں کو معقول بنانے کا مقصد عام آدمی، زیادہ افرادی قوت والی صنعتوں، کسانوں، زراعت، حفظانِ صحت اور معیشت کے دیگر اہم شعبوں کو فائدہ پہنچانا ہے۔ نئے ڈھانچے کے تحت کئی طرح کی ضروری غذائی اشیا پر ٹیکس بالکل ختم کردیا گیا ہے۔ اِن میں چھینا، پنیر، پیزہ بریڈ اور چپاتی شامل ہیں۔ زرعی شعبے کو نمایاں راحت پہنچاتے ہوئے ٹریکٹرس، فصل کاٹنے کے کام آنے والی مشینری جیسے سامان پر GST بارہ فیصد سے کم کرکے پانچ فیصد کردیا گیا ہے۔

آکاشوانی نیوز سے بات کرتے ہوئے دلی کے ایک باشندے ابھے پرتاپ نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے متوسط طبقے کو اپنی امنگیں پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

GST شرحیں کم ہونے سے مینوفیکچرنگ شعبے خاص طور پر چھوٹے اور درمیانہ درجے کے کاروباری اداروں کو بھی تقویت ملے گی۔x

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔