وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ نئی دلّی، امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے اُس بل کی پیشرفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جس میں روس سے تیل خریدنے والے ملکوں پر بھاری محصولات عائد کرنے کی تجویز ہے۔ آج نئی دلّی میں صحافیوں کو جانکاری فراہم کرتے ہوئے، وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ توانائی کی فراہمی کے بڑے مسئلے پر بھارت کا موقف سبھی کو معلوم ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایک ارب چالیس کروڑ عوام کیلئے توانائی کی یقینی فراہمی، تیل کی خریداری کیلئے بھارت کی پالیسی کی رہنمائی کرتی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ دو اہم معیشتوں کے درمیان باہمی طور پر فائدہ مند تجارتی سمجھوتے میں بھارت اور امریکہ دونوں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس سمجھوتے کو حتمی شکل دینے کے خواہاں ہیں۔جناب جیسوال نے کہا کہ بھارت اور امریکہ گزشتہ سال13 فروری سے ہی دوطرفہ تجارتی سمجھوتے پر مذاکرات کیلئے پُرعزم ہیں۔
امریکی وزیرِ تجارت کے حالیہ بیانات کا ذکر کرتے ہوئے، جناب جیسوال نے کہا کہ موصولہ خبروں میں، ان مذاکرات کی، جو تصویر پیش کی گئی ہے، وہ درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان گزشتہ سال آٹھ مرتبہ ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی، جس میں دونوں ملکوں کے درمیان وسیع شراکت داری کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا۔
اُدھر بنگلہ دیش میں، اقلیتوں سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں جناب جیسوال نے کہا کہ اقلیتوں، ان کے گھروں اور کاروبار پر شدت پسندوں کے بار بار حملوں کا ایک تشویشناک سلسلہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فرقہ وارانہ واقعات سے نمٹنے کیلئے فوری طور پر سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے واقعات کو ذاتی دشمنی سے جوڑنے کا رجحان باعثِ تشویش ہے۔
Site Admin | January 9, 2026 9:45 PM
نئی دلّی نے کہا ہے کہ وہ روس سے تیل کی خرید سے متعلق ٹیرف کے امریکی بِل پر قریبی نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ بھارت نے اِس بات کو دوہرایا ہے کہ ایک ارب 40 کروڑ لوگوں کیلئے توانائی کی یقینی فراہمی، بھارت کی تیل کی خریداری کی سمت طےکرے