مرکزی حکومت نے آج ملک میں دہائیوں پرانے لیبر قوانین کو سادہ اور منظم بنانے کے مقصد سے چار نئے لیبر کوڈز کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر محنت اور روزگار کے وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا کہ نئے لیبر کوڈز ملک کی افرادی قوتِ کار کے لیے بہتر اجرت، تحفظ، سماجی سکیورٹی اور فلاح و بہبود کو یقینی بنائیں گے۔ اجرت سے متعلق ضابطے 2019‘،‘ صنعتی تعلقات سے متعلق ضابطے 2020‘،‘ سماجی سیکیورٹی سے متعلق ضابطے 2020‘ اور ملازمت کے تحفظ، صحت اور کام کے حالات سے متعلق ضابطے 2020‘ آج سے نافذ ہو گئے ہیں۔ جناب مانڈویہ نے کہا کہ یہ اصلاحات معمولی تبدیلیاں نہیں بلکہ ملک کے ہر ورکر کے وقار کیلئے حکومت کی ضمانت ہیں۔
محنت اور روزگار کی وزارت نے کہا کہ گزشتہ دہائی کے دوران بھارت نے اپنے سماجی تحفظ کے دائرہ کار میں نمایاں توسیع کی ہے۔ سماجی تحفظ کا دائرہ، 2015 میں 19 فیصد تھا، جو بڑھ کر 2025 میں 64 فیصد سے زیادہ ہو چکا ہے۔ وزارت نے کہا کہ چاروں لیبر کوڈز کا نفاذ اسی سفر کا اگلا اہم قدم ہے، جس سے سماجی تحفظ کے دائرے کو مزید وسعت ملے گی اور مختلف ریاستوں اور شعبوں میں فوائد کی منتقلی کو مضبوط بنایا جاسکے گا۔وزارت نے مزید کہا کہ نئے لیبر کوڈز، تمام ورکروں کیلئے بروقت کم از کم اجرت کی ضمانت، نوجوانوں کے لیے تقرر نامے، خواتین کیلئے مساوی اجرت اور عزت و وقار، 40 کروڑ ورکروں کیلئے سماجی تحفظ اور مستقل ملازمین کے لیے ایک سال کی ملازمت کے بعد گریجویٹی کی سہولت فراہم کریں گے۔ان اصلاحات کے تحت 40 سال سے زیادہ عمر کے ورکروں کیلئے سالانہ مفت طبی جانچ، مقررہ وقت سے زیادہ کام کرنے پر دوگنی اجرت، خطرات والے شعبوں میں کام کرنے والے افراد کیلئے مکمل صحت کی سکیورٹی اور ورکروں کیلئے بین الاقوامی معیار کے مطابق سماجی انصاف کی ضمانت بھی شامل ہے۔
Site Admin | November 21, 2025 9:46 PM
ملک میں ورکروں کیلئے بہتر اجرت، اُن کی حفاظت اور سماجی سکیورٹی کے وعدے کے ساتھ نئے لیبر کوڈز نافذ ہوگئے ہیں