June 22, 2025 3:36 PM

printer

ملک میں سیوا، Sushasan اور غریب کلیان کے اصولوں پر چلتے ہوئے پچھلے گیارہ سال میں قابل قدر تبدیلیاں آئی ہیں۔ آکاشوانی نیوز مختلف اہم شعبوں میں گذشتہ گیارہ سال کے دوران سرکار کی کوششوں کے بارے میں ایک خصوصی فیچر پیش کر رہا ہے۔

ملک میں سیوا، Sushasan اور غریب کلیان کے اصولوں پر چلتے ہوئے پچھلے گیارہ سال میں قابل قدر تبدیلیاں آئی ہیں۔ آکاشوانی نیوز مختلف اہم شعبوں میں گذشتہ گیارہ سال کے دوران سرکار کی کوششوں کے بارے میں ایک خصوصی فیچر پیش کر رہا ہے۔ آج ہم جس موضوع پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں، اُس کا عنوان ہے ”بھارت کا توانائی کا انقلاب – جرأت مندانہ اصلاحات، صلاحیت میں ریکارڈ اضافے اور ماحولیات کے لیے سازگار اور بھروسے مند بجلی کی پرزور وکالت کی ایک دہائی“۔

          گزشتہ دہائی کے دوران بھارت کے بجلی کے شعبے نے شاندار ترقی کی ہے۔ اس میں بڑھتی مانگ، متعلقہ اہمیت کے حامل بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور روائتی اور قابل تجدید دونوں قسم کے توانائی کے وسائل کے لئے ٹھوس پالیسی معاونت کا اہم رول رہا ہے۔ جون 2025 تک، ملک کی بجلی کی نصب شدہ کُل صلاحیت 476 گیگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔ اس میں تقریباََ  نصف بجلی، غیرروائتی ایندھن کے وسائل سے تیار کی گئی ہے۔صرف قابل تجدید توانائی سے 226 گیگاواٹ بجلی تیار کرنے کے ساتھ ہی، بھارت، شمسی توانائی سے بجلی تیارکرنے کی صلاحیت میں عالمی سطح پر تیسرے مقام پر اور ہوا سے بجلی تیار کرنے میں چوتھے مقام پر پہنچ گیا ہے۔ ملک نے اپریل 2018 تک صد فی صد گاؤوں میں بجلی فراہم کرنے کے ساتھ دو کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ کنبوں کو گرڈ سے جوڑدیا ہے۔

          بجلی کی قلت میں بھی زبردست کمی آئی ہے۔سال 2014 میں یہ قلت چار فیصد سے زیادہ تھی، جو کہ آج محض صفر اعشاریہ ایک فیصد رہ گئی ہے۔ دوسری جانب بجلی کی فی کس کھپت میں 45 فیصد تک کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔

– PMسوریہ گھر یوجنا سے ملک بھر کے گھر روشن ہورہے ہیں۔ جبکہ PM -کسم اسکیم، شمسی توانائی کے ذریعہ آبپاشی کی بدولت، کسانوں کو بااختیار بنارہی ہے۔

          نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن سے لے کر بین الاقوامی شمسی اتحاد تک، بھارت، نہ صرف یہ کہ توانائی سے متعلق اپنی ضروریات پوری کررہا ہے بلکہ ماحولیات کے لئے زیادہ سازگار مستقبل کی سمت سرکردہ رول بھی ادا کررہا ہے۔

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔