ملک آج مجاہدِ آزادی اور قبائلی رہنماء بھگوان برسا منڈا کے 150 ویں یومِ پیدائش کی یادگار کے طور پر جَن جاتیہ دیوس منا رہا ہے۔ مرکز نے قبائلی تاریخ کو زندہ رکھنے کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے 15 نومبر کو جَن جاتیہ دیوس قرار دیا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب یہ دن وسعت اختیار کر کے جَن جاتیہ گورو ہفتہ بن گیا ہے اور اب مختلف وزارتیں اور ریاستیں، ثقافتی پروگراموں، نمائشوں اور تعلیم سرگرمیوں کے ذریعے اس جشن کو مناتی ہیں، جو اہم قبائلی شخصیات کی وراثت کو جلا بخشتا ہے۔
گزشتہ دہائی سے اب تک قبائلی ترقی کا ویژن وسعت اختیار کر کے ایک ملک گیر مشن بن گیا ہے۔
آج 42 وزارتیں درجِ فہرست قبائل کیلئے ترقیاتی عملی منصوبے کے ذریعے قبائلی بہبود کے عمل میں سرگرم تعاون دے رہی ہیں۔ حکومت قبائلی مجاہدینِ آزادی کیلئے وقف میوزیموں اور یادگاروں کے قیام کیلئے مسلسل زور دیتی رہی ہے۔ دس ریاستوں میں 17 میوزیموں کی منظوری دی گئی ہے، جن میں سے تین کا افتتاح کیا جا چکا ہے۔ ان میں رانچی کا بھگوان برسا منڈا یادگاری پارک و میوزئم شامل ہے۔ عوامی مقامات جیسے رانی کملاپتی ریلوے اسٹیشن Tantya Bhil یونیورسٹی، اَلّوری سیتا رام راجو اور برسا منڈا کے مجسمے ملک بھر میں قبائلی وراثت کے اعتراف کی جاری کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ کتابوں، Comics اور ڈیجیٹل مواد کے ذریعے قبائلی عظیم شخصیات کی داستانوں کو بیان کیے جانے سے اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ ہر نسل ان کہانیوں سے واقف ہو سکے۔