مغربی بنگال میں مرشد آباد کی Jangipur سب ڈیوژنل عدالت نے اِس سال اپریل میں وقف ترمیمی ایکٹ کے معاملے پر احتجاج کے دوران، باپ اور بیٹے کو بے رحمی سے قتل کیے جانے کی پاداش میں مجرم قرار دیے جانے والے سبھی 13 افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ کَل فیصلہ سناتے ہوئے جج امیتابھ مکھوپادھیائے نے ریاستی سرکار کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ متاثرہ کنبے کو معاوضے کے طور پر 15 لاکھ روپے ادا کرے۔ ہرگوبند داس اور اُن کے بیٹے چندن داس کو ضلع کے Samserganj علاقے میں 11 اپریل کو ایک ہجوم نے ہلاک کردیا تھا۔ اِن ہلاکتوں کے خلاف ریاست بھر میں اور دوسری جگہوں پر بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا تھا۔ اِس واقعہ کے بعد، ضلع پولیس نے معاملے کی چھان بین کی غرض سے ایک خصوصی تفتیشی ٹیم SIT تشکیل دی تھی۔
اُدھر ہرگوبند اور چندن کے کنبے نے عدالت کے فیصلے پر عدم اطمنان کا اظہار کیا ہے اور سبھی مجرموں کو موت کی سزا دیے جانے پر زور دیا ہے۔