July 20, 2025 9:48 PM

printer

مرکز نے، ہماچل پردیش میں بڑھتی ہوئی قدرتی آفات کا جائزہ لینے کیلئے ایک کثیر-شعبہ جاتی ٹیم کی تشکیل کرنے کا حکم دیا ہے

بھارت کے محکمہ موسمیات IMD نے اتراکھنڈ میں منگل تک اور ہماچل پردیش میں بدھ کے روز تک انتہائی شدید بارش کی پیشگوئی کی ہے۔ تمل ناڈو میں 22 جولائی تک اور تلنگانہ میں 24 جولائی تک شدید سے بہت شدید بارش ہونے کا امکان ہے۔ محکمے نے کیرالہ، ماہے، ساحلی اور جنوبی اندرونی کرناٹک میں 26 جولائی تک شدید سے بہت شدید بارش ہونے کی بھی پیشگوئی کی ہے۔ موسمیات کے ایجنسی نے مغربی اترپردیش اور ہریانہ میں کَل تک، اور پنجاب، جموں اور کشمیر میں24 جولائی تک شدید بارش کی پیشگوئی کی ہے۔ مغربی اترپردیش اور مغربی راجستھان میں بھی26 جولائی تک شدید بارش ہونے کا امکان ہے۔ IMD نے کہا کہ ناگالینڈ اور تریپورہ میں کل تک، آندھراپردیش میں منگل تک، اور آسام اور میگھالیہ میں26 جولائی تک بہت شدید بارش ہونے کا امکان ہے۔ IMD نے مزید کہا کہ اگلے پانچ دن کے دوران جنوبی جزیرہ نما بھارت میں 40 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے تیز سطحی ہوا چلنے کا امکان ہے۔ دلّی-قومی راجدھانی خطے میں آئندہ 24 گھنٹوں کیلئے اوسط بارش ہونے کی بھی پیشگوئی کی گئی ہے۔
کرناٹک کے ساحلی علاقوں میں شدید بارش سے معمول کی زندگی متاثر ہے۔ ساحلی کرناٹک میں شدید بارش کیلئے ریڈ الرٹ، جبکہ کرناٹک کے جنوبی اندرونی علاقوں میں اورینج الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ اِن علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ موسمیات کے محکمے نے کہا ہے کہ 26 جولائی تک اِن علاقوں میں بڑے پیمانے پر بارش کا سلسلہ جاری رہے گا۔
کرناٹک کے ساحلی علاقوں اور جنوبی اندرونی علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ ساحلی علاقوں میں 40 سے 50 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے تیز ہوائیں چل رہی ہیں۔ ماہی گیروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ 22 جولائی تک سمندر میں نہ جائیں۔ Chikmaglur میں اورینج الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ آبشاروں اور دیگر مقامات پر جانے والے سیاحوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ احتیاط برتیں۔ بینگلورو اور ملحقہ ضلعوں کیلئے Yellow الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ کل سے کرناٹک کے ساحلی علاقوں میں اسکول اور کالجز بند ہیں۔ دکشن کنّڑ ضلعے میں جنوری سے 2 ہزار 911 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ پچھلے سال کی اسی مدت کے دوران ایک ہزار 920 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔ اُڑپی ضلعے میں کل 68 ملی میٹر بارش ہوئی، جس کے سبب کئی مکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔ اِن ساحلی ضلعوں میں معمول کی زندگی متاثر ہے۔

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔