مرکز نے الیکٹرونکس کَل پرزوں کی مینوفیکچرنگ اسکیم کے تیسرے مرحلے کے تحت 22 نئے پروجیکٹوں کو منظوری دی ہے جس میں 41 ہزار 863 کروڑ روپے کی سرمایہ شامل ہے۔ اِن پروجیکٹوں کے تحت 11 اہداف شدہ مرحلے وار مصنوعات کی تیاری کا احاطہ کیا جائے گا جس میں موبائل مینوفیکچرنگ، ٹیلی کام صارفین سے متعلق الیکٹرانک اشیا، اسٹریٹجک الیکٹرانکس، آٹوموٹیو اور آئی ٹی ہارڈوئیر شامل ہیں۔ اِن پروجیکٹس کے تحت دو لاکھ 58 ہزار کروڑ روپے کی پروڈکشن ہونے کی توقع ہے اور یہ 34 ہزار براہ راست ملازمتیں پیدا کریں گے۔
اِس موقع پر بات کرتے ہوئے الیکٹرانکس اور آئی ٹی کے وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ بڑی اصلاحات اور عمل درآمد میں پیش رفت کا نفاذ مودی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔
ہمارے نامہ نگار نے خبر دی ہے کہ الیکٹرانکس کمپونینٹ مینوفیکچرنگ اسکیم کا آغاز الیکٹرانکس کی سپلائی چین میں بھارت کو خودمختار بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔
الیکٹرونکس عالمی سطح پر سب سے زیادہ تجارت کرنے والی اور سب سے زیادہ ترقی کرنے والی صنعتوں میں سے ایک ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ وہ عالمی معیشت کی تشکیل اور ملک کی اقتصادی اور تکنیکی ترقی کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
آج منظور کیے گئے پروجیکٹ آٹھ ریاستوں آندھراپردیش، ہریانہ، کرناٹک، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، تمل ناڈو، اترپردیش اور راجستھان پر مشتمل ہیں۔ یہ پروجیکٹ گھریلو سپلائی چین کو نمایاں طور پر مضبوط کرے گا اور اہم الیکٹرانک کَل پرزوں کے لیے درآمدی انحصار کو کم کرے گا اور بھارت میں اعلیٰ قدر کی مینوفیکچرنگ صلاحیتیوں کی ترقی میں تعاون کرے گا۔
اِس سے قبل وزارت نے الیکٹرانکس کَل پرزوں کی مینوفیکچرنگ اسکیم کے تحت 24 پروجیکٹوں کو منظوری دی تھی۔
یہ منظوری الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے سفر میں آگے بڑھنے کی عکاسی کرتی ہے جو بھارت کو الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کا عالمی مرکز بنانے کے وزیراعظم نریندر مودی کے ویژن سے قریب ترہے۔