January 6, 2026 2:59 PM

printer

مدراس ہائی کورٹ نے، اُس فیصلے کو برقرار رکھا ہے، جس میں تھِرو پَرن کُندرم پہاڑی پر دیپا تھون جلائے جانے کی اجازت دی گئی ہے

مدراس ہائی کورٹ کی مدُرئی ڈویژن بینچ نے آج واحد جج کے اُس فیصلے کو برقرار رکھا ہے، جس میں Thirupparankundram پہاڑی پر دیپا تھون کے نام سے دعوہ کیے جانے والے دیپ کو جلانے کی اجازت دی گئی تھی۔ جسٹس جی جَیا چندرن اور کے کے راما کرشنن کی ڈویژن بینچ نے یہ واضح کیا کہ وہ جگہ جہاں پر دیپا تھون نام کا پتھر موجود ہے، وہ بھگوان سبرامنیا سوامی مندر سے تعلق رکھتی ہے۔ بینچ نے کہا کہ وہاں دیپ جلایا جاسکتا ہے اور وہاں پر موجود افراد کی تعداد کو متعین کیا جاسکتا ہے، بشرطیکہ بھارتی آرکیلوجیکل سروے کے ساتھ مشورہ کرلیا جائے۔ ہندو مُنانی کے وکیل نرنجن ایس کمار نے بتایا کہ ڈویژن بینچ نے کہا ہے کہ دیپ کا جلایا جانا ضروری ہے اور اِس کو Thiruparankundram پہاڑی پر جلایا جائے۔

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔