December 3, 2025 10:32 PM

printer

لوک سبھا نے تمباکو سے متعلق خام اور تیار اشیاء اور اس کی متبادل مصنوعات پر ڈیوٹی میں اضافے سے متعلق سینٹرل ایکسائز ترمیمی بل، دو ہزار پچیس منظور کرلیا ہے۔

لوک سبھا نے سینٹرل ایکسائز ترمیمی بل 2025 کو منظوری دے دی ہے۔ یہ مجوزہ قانون، سینٹرل ایکسائز قانون 1944 میں ترمیم کرے گا۔ Cess کے خاتمے کے بعد حکومت کو تمباکو اور تمباکو سے بنی اشیاء پر سینٹرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح بڑھانے کیلئے معاشی دائرہئ کار میں توسیع کی خاطر یہ ترمیم ضروری ہوگئی تھی۔ بل پر ایوان میں بحث کا جواب دیتے ہوئے، مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا کہ GST سے پہلے Cess نہیں بلکہ ایکسائز ڈیوٹی ہوا کرتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ GST کے نفاذ کے بعد بھی جولائی 2017 سے 2024 تک Compensation Cess کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

محترمہ سیتا رمن نے مزید کہا کہ صحت کے شعبے میں حکومت کے اخراجات، سال 2014-15 کے GDP کے ایک اعشاریہ تین فیصد سے بڑھ کر 2021-22 میں ایک اعشاریہ آٹھ چار فیصد ہوگئے ہیں۔ محترمہ سیتا رمن نے مزید کہا کہ حکومت کے مجموعی اخراجات میں بھی صحت اخراجات کا حصہ تین اعشاریہ نو چار فیصد سے بڑھ کر چھ اعشاریہ ایک دو فیصد ہوگیا ہے۔ بحث کے بعد ایوان کی کارروائی کل تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔

سینٹرل ایکسائز ترمیمی بل 2025 کا مقصد خام تمباکو، تمباکو سے بنی اشیاء، تمباکو مصنوعات اور تمباکو کے متبادل پر سینٹرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانا ہے۔ سینٹرل ایکسائز قانون 1944 میں، جہاں فی ایک ہزار سگریٹ پر 200 سے 735 روپے کے درمیان ایکسائز ڈیوٹی نافذ کرنے کی گنجائش موجود ہے، تو وہیں اِس بل کے تحت فی ایک ہزار سگریٹ پر اضافی ایکسائز ڈیوٹی کی حد 700 روپے سے 11 ہزار روپے کے درمیان مقرر ہے۔ یہ بل تیار شدہ تمباکو مصنوعات پر زیادہ ایکسائز ڈیوٹی نافذ کرنے کی حمایت کرتا ہے۔ مثال کے طور پر چبانے والے تمباکو پر ڈیوٹی 25 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد کردی گئی ہے اور حقے پر ڈیوٹی 25 فیصد سے بڑھا کر 40 فیصد کردی گئی ہے۔

اس بل کا مقصد لوگوں کو تمباکو کے مضر اثرات سے بچانا اور تمباکو کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ x

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔