وکست بھارت Shiksha Adhishthan بل 2025، جو لوک سبھا میں پیش کیا گیا تھا، مزید جانچ پڑتال کیلئے پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے۔ جب لوک سبھا کی کارروائی دوسری مرتبہ ملتوی ہونے کے بعد آج دوپہر دو بجے دوبارہ شروع ہوئی تو تعلیم کے مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان نے اِس بل کو پیش کیا۔ البتہ اپوزیشن کے اراکین نے بل کو پیش کرنے کی مخالفت کی۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ بزنس ایڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ کے دوران بہت سے اراکین پارلیمنٹ نے بل پر وسیع تر صلاح ومشورے کیلئے زور دیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اُن کی درخواست پر غور کرتے ہوئے حکومت نے وسیع تر صلاح ومشورے کیلئے اِس بل کو JPC کو بھیجنے کی تجویز رکھی ہے۔ وکست بھارت Shiksha Adhishthan بل کا مقصد، یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیم کے دیگر اداروں کو تدریس، آموزش، تحقیق اور اختراع میں مہارت حاصل کرنے کیلئے بااختیار بنانا ہے۔ بل میں ایک وکست بھارت Shiksha Adhishthan قائم کرنا شامل ہے جس کا مقصد یونیورسٹی اور اعلیٰ تعلیم کے دیگر اداروں کو آزاد، ذاتی طور پر انتظام کرنے کے ادارے بنانے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اس میں Accreditation اور خودمختاری کے ایک جامع اور شفاف نظام کے ذریعے مہارت کو فروغ دینا بھی شامل ہے۔
لوک سبھا میں آج نیوکلیائی توانائی کی پائیدار افزودگی اور ترقی سے متعلق ٹرانسفورمنگ اِنڈیا بِل 2025 پیش کیا گیا۔ نیوکلیائی توانائی کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے یہ بِل پیش کیا۔ بِل کا مقصد ہم وطنوں کی بہبود کیلئے بجلی پیدا کرنے کیلئے نیوکلیائی توانائی اور تابکاری کی ترقی کرنا ہے۔ بِل میں نیوکلیائی توانائی کے محفوظ استعمال کیلئے انضباطی لائحہ عمل وضع کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ یہ بِل، نیوکلیائی توانائی کے ریگولیٹری بورڈ اور نیوکلیائی توانائی سے متعلق ریڈریسل ایڈوائزری کونسل کے قیام کی گنجائش رکھتا ہے۔ اِس بِل میں جوہری حادثے کی صورت میں مرکزی حکومت کی ذمہ داری طے کرنے کی گنجائش بھی موجود ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اِس بِل کو متعارف کیے کیے جانے کی مخالفت کی۔
Site Admin | December 15, 2025 9:50 PM
لوک سبھا نے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو بااختیار بنانے سے متعلق بِل کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیج دیا ہے