December 10, 2025 11:04 PM

printer

لوک سبھا میں انتخابی اصلاحات پر بحث کے دوران وزیرِ داخلہ امت شاہ نے زور دے کر کہا کہ آئین، انتخابی کمیشن کو ووٹر فہرست تیار کرنے اور خصوصی تفصیلی نظرِثانی کرانے کی اجازت دیتا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ووٹر فہرستوں کی جاری تفصیلی نظرثانی مہم، SIR کی یہ کہتے ہوئے حمایت کی ہے کہ آئین، انتخابی کمیشن کو انتخابی فہرستیں تیار کرنے کا مکمل اختیار دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی فہرستوں پر خصوصی نظرثانی کرنا، پوری طرح سے انتخابی کمیشن کی ذمے داری ہے اور وہ انتخابی فہرستوں کو درست کرنا چاہتا ہے۔ جناب شاہ نے آج لوک سبھا میں انتخابی اصلاحات سے متعلق بحث کا جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔

SIR کے طریقہئ کار کے بارے میں اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے جناب شاہ نے اپوزیشن بالخصوص کانگریس کو جھوٹ پھیلانے اور ملک، حکومت اور انتخابی کمیشن کی شبیہ مسخ کرنے کا موردِ الزام ٹھہرایا۔

جناب شاہ نے واضح کیا کہ انتخابی ادارہ، آزادانہ طور پر کام کرتا ہے اور حکومت سے اثر انداز نہیں ہوتا۔ وزیر داخلہ نے SIR کے معاملے پر اپوزیشن پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انھوں نے کہا کہ جب اپوزیشن انتخاب میں جیت حاصل کرتی ہے تو تب وہ سوال نہیں اٹھاتی لیکن جب انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ انتخابی کمیشن کی نیّت اور انتخابی طریقہئ کار سوال اٹھانے لگتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ NDA کی پالیسی در اندازوں کو Detect یعنی پتہ لگانے، Delete یعنی حذف کرنے اور Deport یعنی ملک بدر کرنے کی ہے، جبکہ اپوزیشن کی پالیسی اِن در اندازوں کو ووٹر فہرست میں شامل کرنے کی ہے۔ جناب شاہ نے اپوزیشن کی حکمرانی والی ریاستوں پر خصوصی تفصیلی نظرثانی کے دوران انتخابی کمیشن کے ساتھ تعاون نہ کرنے کا الزام لگایا۔

موجودہ SIR مشق کا دفاع کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ SIR مشق، پہلی مرتبہ 1952 میں اُس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے تحت انجام دی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سال 2004 کے بعد SIR مشق، کئی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں انجام دی گئی۔ جناب شاہ نے مزید کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت نے سال 2004 تک SIR کی مخالفت نہیں کی۔

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔