لوک سبھا میں انتخابی اصلاحات پر بحث جاری ہے۔ بحث کا آغاز کرتے ہوئے کانگریس لیڈر منیش تیواری نے کہا کہ انتخابی کمیشن SIR کرائے جانے کیلئے وجوہات پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی کئی ریاستوں میں SIR جاری ہے لیکن انتخابی کمیشن SIR کرائے جانے کیلئے کوئی قانونی جواز پیش نہیں کرسکا ہے۔ جناب تیواری نے دعوہ کیا کہ آئین انتخابی فہرست کی خصوصی نظرثانی کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتخابی کمیشن کو ایک شق دی گئی تھی۔ جناب تیواری نے اِس بات کی تجویز بھی رکھی کہ یا تو VVPAT کی بھی گنتی ہونی چاہیے یا ملک میں بیلٹ کے ذریعے انتخابات کرائے جانے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ راجیہ سبھا کے اپوزیشن لیڈر اور بھارت چیف جسٹس کو اُس کمیٹی میں شامل ہونا چاہیے، جو انتخابی کمیشن کا انتخاب کریں۔
BJP کے سنجے جیسوال نے کہا کہ اپوزیشن SIR کا معاملہ اِس لیے اُٹھا رہی ہے کہ وہ چاہتی ہے کہ بہار انتخابات میں اُن کی جو بُری طرح ہار ہوئی اُس سے لوگوں کا دھیان بھٹکایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ چوری کا پہلا معاملہ 1947 میں ہوا تھا، جب پوری کانگریس ورکنگ کمیٹی سردار پٹیل کی حمایت میں تھی لیکن پھر بھی انہیں وزیر اعظم نہیں بنایا گیا۔