لوک سبھا میں آپریشن سندور پر خصوصی بحث آج بھی جاری رہے گی۔ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے جواب میں بھارت کی مضبوط، کامیاب اور فیصلہ کن کارروائی پر بحث کا آغاز کل وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے ایوان میں کیا تھا۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ پہلگام حملے کے بعد بھارت کی فوجی کارروائی نے سرحد پار دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایک نئے معمول کا اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے سرحد پار دہشت گردی کے خلاف بھارت کے نظریے کو بیان کرنے والا پانچ نکاتی لائحہ عمل پیش کیا۔
S/B S Jaishankar Operation Sindoor
وزیر خارجہ نے اس بات کو سختی سے مسترد کیا کہ مئی میں بھارت-پاکستان تنازع کے خاتمے میں کسی بیرونی ثالث، خاص طور پر امریکہ کا کوئی کردار تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تجارتی مذاکرات اور فوجی کارروائیوں کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔
S/B: Jaishankar on US Link
اس سے قبل بحث کا آغاز کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت نے ایک سوچی سمجھی اور غیراشتعال انگیز کارروائی کی، جس میں پاکستان میں دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائی پہلگام میں سیاحوں پر ہوئے بزدلانہ حملے کے جواب میں کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس کارروائی میں 100 سے زیادہ دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا اور 9 خفیہ ٹھکانوں کو تہس نہس کیا گیا۔
SB/- Rajnath Singh detailed SF
جناب راجناتھ سنگھ نے آپریشن سندور کے دوران مسلح افواج کی شجاعت اور دلیری کو سراہا اور کہا کہ بھارت نے S-400 اور آکاش میزائل جیسے جدید فضائی دفاعی نظام استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے حملے کو مؤثر طریقے سے ناکام بنا دیا اور کسی اہم بھارتی اثاثے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ انہوں نے پاکستان کو عالمی دہشت گردی کی نرسری قرار دیا اور اس کی فوج اور ISI پر بھارت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے درپردہ جنگ مسلط کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ اراکین جو یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ بھارت کے کتنے طیارے تباہ ہوئے، وہ قومی جذبات کی صحیح ترجمانی نہیں کرتے ہیں۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے کانگریس رہنما گورو گوگوئی نے جموں و کشمیر میں سیکیورٹی نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت پہلگام دہشت گردانہ حملے کے مجرموں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔
S/B- Gaurav Gagoi
سماج وادی پارٹی کے رام شنکر راج بھر نے بھی اسی خیال کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلگام حملے میں ملوث دہشت گرد اب تک فرار ہیں۔ انہوں نے جموں و کشمیر میں سیکیورٹی صورتحال پر بھی سوالات اٹھائے۔ مرکزی وزیر راجیو رنجن سنگھ نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مسلح افواج کی بہادری کی تعریف نہیں کی۔ انہوں نے اپوزیشن رہنما راہل گاندھی کی بھی تنقید کی کہ وہ بھارت کی مسلح افواج اور دیسی ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں پر سوال اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آپریشن مہادیو اس وقت جموں و کشمیر میں جاری ہے اور اِس کارروائی میں پہلگام حملے سے منسلک ایک دہشت گرد کو مارا گیا ہے۔
لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کی رکن شمبھاوی نے کہا کہ پہلگام میں دہشت گردانہ حملہ صرف بھارتی شہریوں پر نہیں بلکہ پوری انسانیت پر تھا۔ دیگر اراکین جنہوں نے بحث میں حصہ لیا، ان میں ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی، TDPکے لاوو سری کرشن، YSR (CP) کے وائی ایس اوِینا ریڈی، کانگریس کے دیپیندر ہُڈا، اور جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے میاں الطاف احمد، BJP کے تیجسوی سوریا، NCP شردپوار کی سپریا سولے، BJPکے انوراگ ٹھاکر اور CPIM کے ایس وینکٹیسن، جنتا دل یو کے دلیشوَر کامت، AIMIM کے اسدالدین اُویسی، آزاد سماج پارٹی کاشی رام کے چندر شیکھرBJP کے دلیپ سائیکیہ اور کمل جیت شراوت اور JDU کی لولی آنند شامل تھیں۔x