لہہ میں، چھٹے شیڈول کی توسیع کے ساتھ ساتھ لداخ کو ریاست کا درجہ دینے سے متعلق مرکز کے ساتھ مجوزہ بات چیت میں پیش رفت کرنے کے مطالبے کی حمایت میں پر تشدد احتجاج کے بعد، پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔ لہہ َضلع میں امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے، بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہِتا BNSS، 2023 کی دفعہ 163 کے تحت، لہہ کے ضلع مجسٹریٹ کے ذریعے جاری آرڈر میں کہا گیا ہے کہ لہہ میں مجاز اتھارٹی سے پیشگی منظوری لیے بغیر، کوئی بھی جلوس، ریلی اور مارچ نہیں نکالا جانا چاہیے۔ ایسی گاڑیوں کو استعمال نہیں کیا جائے گا، جن پر اِسپیکر لگے ہوں۔ کسی کو بھی ایسے بیانات دینے کی اجازت نہیں ہے، جس سے عوامی نظم و نسق میں خلل پڑے نیز جس کی وجہ سے ضلع میں امن و قانون کی صورتحال پیدا ہو۔ لہہ ضلع کی حدود میں 5 یا اُس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی برقرار رہے گی۔
لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر Kawinder گپتا نے تشدد کی سخت مذمت کی ہے اور امن کے لیے اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز بات چیت کے لیے تیار ہے اور لہہ میں آج ہونے والے تشدد کے واقعات لداخ کی تاریخ اور ورثے کے خلاف ہیں۔ جناب گپتا نے مزید کہا کہ وہ افراد آج کے احتجاج میں ہونے والے نقصان کے ذمہ دار ہیں، جنہوں نے اِس تشدد کو ہوا دی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے معاشرے کے تمام طبقات سے پر زور اپیل کی کہ وہ پر امن مذاکرات کریں۔ انہوں نے شہری اور مذہبی تنظیم پر امن اور لداخ کے بہتر مستقبل کے لیے کام کرنے پر زور دیا۔
Site Admin | September 24, 2025 9:33 PM
لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور چھٹے شیڈول کی توسیع کے لیے مطالبے پر پرتشدد احتجاج کے بعد، لہہ میں امتناعی احکامات نافذ کردیے گئے ہیں