فوج کے سربراہ جنرل اُپیندر دویدی نے آج کہا ہے کہ جموں وکشمیر میں Shaksgam وادی سے متعلق چین اور پاکستان کے درمیان 1963 کا معاہدہ غیر قانونی ہے۔ فوج کے سربراہ نے وادی کے اس علاقے کے سلسلے میں بھارت کے موقف کو دوہرایا۔ جنرل دویدی نے Shaksgam وادی پر چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان کی رائے زنی پر میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ جنرل دویدی نے کہا کہ بھارت، وادی میں کسی بھی طرح کی سرگرمی کی اجازت نہیں دے گا۔ فوج کے سربراہ نے کہا کہ چین کے ساتھ حقیقی کنٹرول لائن پر صورتحال مستحکم ہے، لیکن مسلسل چوکسی کی ضرورت ہے۔ جنرل دویدی نے کہا کہ آپریشن سندور، جوابی کارروائی کی کھلی چھوٹ کے ساتھ فوج کی تینوں شاخوں کے درمیان تال میل کی بہترین مثال تھا۔ انھوں نے کہا کہ آپریشن ابھی جاری ہے اور کسی بھی طرح کی حماقت سے موثر طور پر نمٹا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے پیش نظر اعلیٰ ترین سطح پر جوابی کارروائی کے سلسلے میں واضح طور پر فیصلہ کیا گیا تھا۔
Site Admin | January 13, 2026 9:48 PM
فوج کے سربراہ جنرل اُپیندر دویدی نے زور دے کر کہا ہے کہ جموں وکشمیر میں Shaksgam وادی سے متعلق چین اور پاکستان کے درمیان 1963 کا معاہدہ غیرقانونی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت وادی میں کسی بھی طرح کی سرگرمی کی اجازت نہیں دیتا