فضائی کارروائیوں کے ڈائریکٹر جنرلDGAO یئر مارشل اے کے بھارتی نے آج زور دے کر کہا کہ بھارت کی لڑائی دہشت گردوں اور ان کے امدادی بنیادی ڈھانچے سے تھی نہ کہ پاکستانی فوج سے۔ انھوں نے کہا ہے کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ پاکستان کی فوج نے مداخلت کا راستہ اپنایا اور دہشت گردوں کی حمایت کی جس کی وجہ سے بھارتی مسلح افواج کو جوابی کارروائی کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
نئی دلّی میں آپریشن سندور کے بارے میں میڈیا کو تفصیل بتاتے ہوئے ایئرمارشل بھارتی نے بتایا کہ آپریشن سندور کے دوران بھارتی فوج نے کس طرح ملک کے سویلین اور فوجی بنیادی ڈھانچے دونوں کو کم سے کم نقصان پہنچایا۔انھوں نے یہ بھی بتایا کہ کس طرح بھارتی مسلح افواج نے مربوط فضائی دفاعی نظام کا استعمال کیا۔
ایئرمارشل بھارتی نے بتایا کہ پاکستان نے بہت سے ڈرون اور بغیر پائلٹ والے لڑاکا Aerial Vehicles کا استعمال کیا جنھیں ملک میں ہی تیار کئے گئے UAS نظام اور بہتر تربیت یافتہ بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں نے ناکام بنا دیا۔ انھوں نے آکاش نظام جیسے اندرون ملک تیار کردہ فضائی دفاعی نظام کی شاندار کارکردگی کو بھی اجاگر کیا۔ ایئرمارشل بھارتی نے کہا کہ چینی ساخت کا پاکستان کاPL-15 میزائل نشانے پر نہیں لگا اور بغیر پائلٹ والے فضائی نظام کو مار گرایا گیا۔ بھارت کی جانب سے کی جانے والی جوابی کارروائیوں کے بارے میں DGAO نے کہا کہ بھارت نے دشمن کے دور دراز علاقوں کو نشانہ بنایا اور اس سلسلے میں انھوں نے نورخان ایئر بیس اور رحیم یار خان ایئر بیس کا ذکر کیا۔
یہ بتاتے ہوئے کہ کس طرح فضائی دفاعی نظام نے دشمن کے ڈرونز، لڑاکا طیارے اور میزائل کو ناکام بنایا جس کی وجہ سے بھارت کی جانب بہت کم نقصان ہوا۔ فوجی کارروائیوں کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل راجیو Ghai نے بتایا کہ بھارت پہلے سے پوری طرح تیار تھا۔ انھوں نے کہا کہ جب پاکستانی فضائیہ نے 9 اور 10 مئی کی رات کے دوران بھارتی ایئرفیلڈس اور نقل وحمل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو انھیں کثیر سطحی ڈرون مخالف اور فضائی دفاعی نظام کے ذریعے روک دیا گیا۔انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ پاکستان کو یہ موقع نہیں ملا کہ وہ بھارت کے فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنا سکے۔ DGMO نے کارروائیوں میں تعاون کیلئے BSF کی ستائش کی۔
اپنے بیان میں بحریہ کی کارروائیوں کے ڈائریکٹر جنرل وائس ایڈمرل AN Pramod نے اِس بات کو اجاگر کیا کہ بھارتی بحریہ Multiple Sensors اور معلومات کا استعمال کرتے ہوئے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کیلئے مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ DGNO نے بتایا کہ موجودہ تنازع میں بڑی تعداد میں Mig 29 K جنگی جہازوں اور پہلے سے خبردار کرنے والے ہیلی کاپٹروں کے ساتھ بحریہ کے طیارہ بردار جہاز نے کسی بھی مشتبہ اور دشمن کے طیارے کو قریب آنے سے روکا۔
وائس ایڈمرل پرمود نے یہ بات زور دے کر کہی کہ بھارتی بحریہ کے پاس قابل بھروسہ یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ کسی بھی ایسے فضائی پلیٹ فارمس کی شناخت کرکے اسے ناکام بناسکے جس سے کہ سمندر میں اُس کے یونٹوں کو خطرہ لاحق ہو۔
Site Admin | May 12, 2025 9:49 PM
فضائی آپریشن کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا ہے کہ بھارت کی لڑائی دہشت گردوں اور اُس کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف تھی، جبکہ پاکستان نے دہشت گردوں کے سرپرستی کا راستہ اپنایا