November 5, 2025 9:53 PM

printer

عملہ، عوامی شکایات اور پنشن کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ 25 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے اپنا ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ تیار کرنے کیلئے چہرے کی شناخت نظام کو اپنایا ہے

عملہ، عوامی شکایات اور پنشن کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ 25 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے اپنا ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ تیار کرنے کیلئے چہرے کی شناخت نظام کو اپنایا ہے۔ ڈاکٹر سنگھ نے یہ بات نئی دلّی میں ملک گیر چوتھی ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ مہم کے آغاز کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انھوں نے کہا کہ یہ مہم پنشن یافتگان کو ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنانے کا ایک منفرد موقع ہے، جو ڈیجیٹل انڈیا کے نظریہ سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پہلے یہ سرٹیفکیٹ بایو میٹرک نظام کے ذریعے تیار کیے جاتے تھے لیکن 75 سال یا اس سے زیادہ عمر کے پنشن یافتگان کے لئے یہ ہمیشہ قابل اعتماد نہیں تھا۔ ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ تقریباً 2 ہزار 200 پنشن یافتگان ایسے ہیں، جن کی عمر 100 سال سے زیادہ ہے اور وہ اپنی آخری تنخواہ بطور پنشن وصول کر رہے ہیں۔
چہرے کی شناخت کا نظام استعمال کرنے والے 25 لاکھ ریٹائرڈ افراد میں سے 30 ہزار سے زیادہ پنشن یافتگان کی عمر 90 سال سے زیادہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ لوگ تیزی سے جدید ٹکنالوجی کو اپنا رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل لائف سرٹیفیکٹ کے لئے چہرے کی شناخت نظام کا استعمال صرف پنشن کی فراہمی میں آسانی کے لیے نہیں بلکہ یہ سماجی و معاشی رویے میں تبدیلی اور دستیاب ٹیکنالوجی کے بہتر استعمال کی علامت بھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس اقدام نے غیر ملکوں مثلاً منگولیا اور مالدیپ کی دلچسپی بھی حاصل کی ہے۔وزیر موصوف نے کہا کہ مختلف ممالک کے سول سرونٹس کے وفود نے بھارت کا دورہ کیا تاکہ وہ ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ اور CPGRAMS جیسے شہریوں پر مرکوز پالیسیوں کو سمجھ سکیں۔
آخر میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بتایا کہ یہ مہم اس ماہ کے اختتام تک جاری رہے گی۔ اس موقع پر انہوں نے ایک کتابچہ اور ایک مختصر فلم بھی جاری کی۔

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔