سپریم کورٹ نے دلّی ہائی کورٹ کے اُس حکم پر روک لگادی ہے، جس کے تحت 2017 کے اُنّاؤ آبروریزی کیس میں BJP سے نکالے گئے لیڈر کُلدیپ سنگھ سینگر کی عمرقید کی سزا کو معطل کیا گیا تھا۔ اس طرح وہ جیل میں ہی رہیں گے۔
جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی ایک بینچ نے کُلدیپ سنگھ سینگر کو نوٹس جاری کیا ہے، جس میں اُن سے CBI کی اپیل پر جواب طلب کیا گیا ہے۔ CBI نے اپنی درخواست میں ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔
CBI کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے بینچ پر زور دیا کہ وہ ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگائے۔
عدالت عالیہ کی بینچ نے کہا کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لے گی، کیونکہ اس پر غور وخوض کی ضرورت ہے۔ اُس نے یہ بھی کہا کہ ہائی کورٹ کے 23 دسمبر کے حکم کے تناظر میں کُلدیپ سنگھ سینگر کو رہا نہیں کیا جائے گا۔ اس معاملے کی سماعت اب 4 ہفتے بعد ہوگی۔