عالمی رہنماؤں نے ایران میں ملک گیر پیمانے پر جاری مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کرنے پر ایران کی مذمت کی ہے۔ آسٹریلیا، کینیڈا اور یوروپی یونین کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں اس کی مذمت کرتے ہوئے ایران کے عوام کی طرف سے بہادری کا مظاہرہ کرنے کی ستائش کی۔ مشترکہ بیان میں اِن وزرائے خارجہ نے ایران سرکار پر زور دیا ہے کہ وہ بے تحاشا طاقت کا استعمال بند کرے اور پرامن احتجاج کرنے کے حق کا احترام کرے۔ ملک کے کئی خطوں میں بھی مظاہرے ہورہے ہیں اور اِس کے مدنظر کثیر تعداد میں حفاظتی دستے تعینات کئے گئے ہیں۔ اُدھر خبروں میں کہا گیا ہے کہ ایران نے ملک بھر میں انٹرنیٹ بند کردیا ہے اور کنکٹی وٹی کو کم کرکے تقریباً ایک فیصد کردیا ہے۔ وہاں پچھلے مہینے کی 28 تاریخ کو مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے 62 افراد کی جانیں جاچکی ہیں، جن میں سکیورٹی عملے کے 14 اہلکار اور 48 مظاہرین شامل ہیں۔ ملک میں پھیلے ہوئے اِس انتشار کے دوران 2 ہزار 300 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔×
Site Admin | January 10, 2026 3:05 PM
عالمی رہنماؤں نے ایران میں ملک گیر پیمانے پر جاری مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کرنے پر ایران کی مذمت کی ہے۔