July 12, 2025 9:51 PM

printer

طیاروں کے حادثے کی تحقیقات کے بیورو کی ابتدائی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ دونوں انجنوں کو ایندھن کی سپلائی بند ہوگئی تھی، جس کی وجہ سے پچھلے مہینے احمد آباد طیارہ حادثہ پیش آیا

طیارہ حادثے کے تحقیقاتی بیورو AAIB نے ایئر انڈیا کے اُس طیارہ حادثے کی تحقیقات کی، 15 صفحات پر مشتمل ابتدائی رپورٹ کَل رات جاری کردی، جس میں پچھلے مہینے کی 12 تاریخ کو احمد آباد میں 260 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ رپورٹ میں واقعات کے سلسلے اور انجن کے کام کرنے کے طریقے کا جائزہ لیا گیا اور یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ طیارے کے انجنوں میں ایندھن پہنچنا بند ہوگیا تھا۔
AAIB نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جیسے ہی طیارے نے پرواز شروع کی، ایک سیکنڈ میں ہی، طیارے کے ایندھن کو کنٹرول کرنے والے دونوں انجن RUN کی پوزیشن سے کٹ آف پوزیشن میں آگئے اور پھر بند ہوگئے، جس کی وجہ سے یہ المناک حادثہ پیش آیا۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق Cockpit وائس ریکارڈر پر ایک پائلٹ دوسرے سے یہ کہتا ہوا سنائی دے رہا ہے کہ انھوں نے انجنوں کو ایندھن کی سپلائی کیوں بند کردی جس کے جواب میں دوسرے پائلٹ نے کہا کہ انھوں نے نہیں کی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ Bowsers اور ٹینکس سے ایندھن کے نمونے لئے گئے، جن کی شہری ہوا بازی سے متعلق ڈائریکٹوریٹ جنرل کی لیباریٹری میں جانچ کی گئی، جو اطمینان بخش پائی گئی۔
شہری ہوابازی کے وزیر رام موہن نائیڈو نے کہا ہے کہ یہ ابتدائی چھان بین پر مبنی ہے۔ انھوں نے عوام پر زور دیا کہ جب تک حتمی رپورٹ نہ آجائے کوئی نتیجہ اخذ نہ کریں۔

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔