December 15, 2025 9:47 PM

printer

صنعت و تجارت کے وزیر پیوش گوئل نے آج بتایا کہ ملک میں گذشتہ 11 برسوں میں شمسی توانائی میں 46 فیصد اضافہ ہوا ہے

صنعت و تجارت کے وزیر پیوش گوئل نے آج بتایا کہ ملک میں گذشتہ 11 برسوں میں شمسی توانائی میں 46 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ آج نئی دلّی میں میڈیا کو توانائی کے شعبے سے متعلق پیشرفت کے بارے میں بتاتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ بھارت اب کوئلہ کی پیداوار کرنے والا، دنیا کا چوتھا سب سے بڑا ملک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ سال کوئلے کی ایک ارب ٹن سے زیادہ پیداوار ہوئی، جس سے کوئلے کی درآمدات میں 8 فیصد تک کمی آئی۔ وزیرِ موصوف نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی کی صلاحیت میں بھی 53 گیگاواٹ کا اضافہ ہوا ہے۔ جناب گوئل نے اس بات کو اجاگر کیا کہ 2014 سے حکومت نے صرف نتائج پر توجہ دی ہے اور توانائی کے شعبے میں پچھلے 11 برسوں میں وسیع پیمانے پر تبدیلی آئی ہے۔
کامرس اور صنعت کے وزیر نے کہا کہ توانائی کے شعبے کی تبدیلی یکساں رسائی، شکایت، دستیابی، مالیاتی لچک اور پائیداری پر مبنی ہے۔ انھوں نے قومی گرین ہائیڈروجن مشن کو اجاگر کیا، جس کا ہدف 2030 تک ہر سال پانچ ملین میٹرک ٹن کی پیداواری صلاحیت کا ہے۔ اس کا مقصد روایتی ایندھن کی درآمدات کو ایک لاکھ کروڑ روپئے سے زیادہ کم کرنا ہے۔
جناب گوئل نے پی ایم سوریہ گھر اسکیم کو بھی اجاگر کیا جس کے تحت تقریباً 20 ہزار گھرانوں میں چھت پر شمسی توانائی کی تنصیبات کی جارہی ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ملک قابل تجدید توانائی میں اضافی بجلی کی پیداوار، گرڈ انٹیگریشن اور قیادت کے تئیں پیشرفت کر رہا ہے۔ وزیر موصوف نے زور دے کر کہا کہ ملک بجلی کی کمی کی صورتحال سے بجلی کا تحفظ کرنے میں تبدیل ہوچکا ہے اور اب یہ بجلی کی پائیداری کی جانب پیشرفت کر رہا ہے۔

 

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔