November 9, 2025 9:46 PM

printer

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے Luanda میں انگولا کے اپنے ہم منصب Joao Lourenco سے بات چیت کی۔ دونوں ملکوں نے بحری اور قونصلر معاملوں کے شعبے میں مفاہمت کے اقرار ناموں پر دستخط کئے

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے آج لوؤاندا میں ’ژواؤں منوئیل گونسال ویس لارنس‘ کے ساتھ بہت سے موضوعات پر دو طرفہ مذاکرات کیے۔ دونوں ملکوں نے ماہی گیری، ایکوا کلچر، سمندری وسائل اور قونصلر خانے کے معاملات کے میدانوں میں تعاون میں اضافے کیلئے، ایک دوسرے کے ساتھ مفاہمت نامے بھی کیے۔صدر جمہوریہ نے بین الاقوامی Big Cat Alliance (IBCA) اور بائیو فیوز سے متعلق عالمی اتحاد GBA میں شرکت کیلئے انگولا کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔
صدر جمہوریہ مرمو نے انگولا کی ترقی کے سفر میں، دو طرفہ طور پر ایک قابل اعتبار شراکت دار بننے اور بھارت-افریقہ فورم سمٹ کے وسیع تر فریم ورک کے سلسلے میں بھارت کے عزم کو دوہرایا۔ دونوں رہنماؤں نے توانائی کی شراکت داری، بنیادی ڈھانچے، دفاع، صحت، زراعت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز سمیت دیگر شعبوں میں تعاون میں گہرائی پیدا کرنے کیلئے کام جاری رکھنے سے اتفاق کیا۔انگولا کے صدر نے کہا کہ انگولا اور بھارت کے درمیان چھ ماہ کے اندر اندر دو اعلیٰ سطح کے دوروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح دونوں ممالک اپنے بڑھتے ہوئے تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں۔ صدر لارنس نے اِس سال مئی میں بھارت کا دورہ کیا تھا۔ صدر جمہوریہ کے دورے کی خبریں دینے والے ہمارے نامہ نگار کی ایک رپورٹ
انگولا کے صدر نے کہا کہ وہ خاص طور سے صحت کے شعبے میں بھارت کے ساتھ اشتراک چاہتے ہیں۔ انھوں نے بھارتی ڈاکٹروں کی تعریف کی اور گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ سطح پر انگولا کے مزید طلبا کو تربیت دیئے جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ صدر Lourenco نے خاص طور سے کینسر کا ذکر کیا اور کہا کہ انگولا کے لوگوں کو علاج کیلئے اب بھی بیرونِ ملک جانا پڑتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ انگولا میں کینسر کے نئے اسپتال کو بھارت کے سازوسامان اور تربیت سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ صدر Lourenco نے ڈرونز سمیت دفاعی نظام کے شعبے میں بھارت کی ترقی کا بھی اعتراف کیا اور بھارت کے ساتھ نہ صرف سازوسامان درآمد کرکے بلکہ انگولا میں بھارتی فیکٹری لاکر بھی کام کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
اس سے پہلے آج صدارتی محل پہنچنے پر صدر دروپدی مرمو کا شاندار خیر مقدم کیا گیا اور اُنھیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ صدر Laurenco نے میٹنگ کے اختتام پر صدر مرمو کیلئے لنچ کا بھی اہتمام کیا۔ صدر مرمو 8 سے 13 نومبر تک انگولا اور بوتسوانہ کے دورے پر ہیں۔ انگولا میں وہ منگل کو انگولا کی آزادی کی پچاسویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کریں گی۔ وہ قومی اسمبلی سے بھی خطاب کریں گی اور انگولا میں بھارتی برادری کے اراکان سے ملاقات کریں گے۔ محترمہ مرمو اپنے دورے کے دوسرے مرحلے میں 11 نومبر کو بوتسوانہ روانہ ہوجائیں گی۔ کسی بھی بھارتی سربراہ مملکت کا اِن دونوں افریقی ملکوں کا یہ پہلا دورہ ہے۔ صدر مرمو کے ہمراہ جل شکتی اور ریلوے کے وزیر مملکت V Somanna اور اراکان پارلیمنٹ پربھو بھائی Nagarbhai Vasava اور ڈی کے اَرُونا اور اعلیٰ عہدیدار بھی گئے ہیں۔

 

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔