صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے نئی دلّی میں 2023 اور 2024 کے، دستکاری کے قومی ایوارڈس عطا کئے۔ یہ باوقار ایوارڈس غیرمعمولی فنی مہارت کیلئے دیئے جاتے ہیں اور اِن سے بھارت کی مالا مال اور متنوع دستکاری وراثت کے تحفظ اور فروغ کے، حکومت کے عزم کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔
صدرِ جمہوریہ نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فنونِ لطیفہ، عوام کو مختلف ثقافتوں اور ایک دوسرے سے مربوط کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دستکاری محض کوئی ثقافتی پہچان نہیں ہے بلکہ عوام کی گزر بسر کا ایک اہم عنصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شعبہ ملک میں 32 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو روزگار فراہم کرتا ہے اور اِن میں زیادہ تر کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے۔
2023 کا، شِلپ گرو ایوارڈ، جو کپڑوں پر ہاتھ سے بنائی گئی پینٹنگ کے زمرے میں دیا جاتا ہے، مغربی بنگال کے اجیت کمار داس کو دیا گیا، جبکہ آندھرا پردیش کے D Sivamma کو چمڑے کی کٹھ پتلی کے زمرے میں انعام دیا گیا ہے۔
2023 کے قومی ایوارڈس چھتیس گڑھ کی ہیرا بائی جھَریکا بھَگیل کو دھات کی دستکاری کیلئے، اترپردیش کے امتیاز احمد کو ہاتھ سے بنائے گئے قالین کیلئے اور راجستھان کے روشن چھِیپا کو فنی انداز کے کپڑوں کیلئے دیئے گئے۔
2024 کیلئے شِلپ گرو ایوارڈس ہریانہ کے سبھاش اروڑہ کو دھات کی دستکاری اور اترپردیش کے محمد دلشاد کو لکڑی کی دستکاری کیلئے دیئے گئے۔
2024 کے قومی ایوارڈس تمل ناڈو کے T Baskaran کو پتھر کی تراشیدگی، مغربی بنگال کے Rupban Chitrakar کو پینٹنگ اور مدھیہ پردیش کے بَلدیو باگھ مارے کو قبائلی کاریگری کے زمرے میں دیئے گئے۔ 2023 اور 2024 کے شِلپ گرو ایوارڈس مجموعی طور پر 12 کاریگروں کو عطا کئے گئے ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے خاص طور پر کہا کہ دستکاری کے شعبے میں خواتین کی تعداد 68 فیصد ہے اور اِس شعبے کی ترقی بھی خواتین کو بااختیار بنانے کی یقین دہانی کرائے گی۔ صدرِ جمہوریہ نے خوشی کا اظہار کیا کہ 20 دستکار خواتین نے آج یہ ایوارڈس حاصل کئے ہیں۔
اِس موقع پر کپڑوں کی صنعت کے مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے کہا کہ حال ہی میں GST کی 18 فیصد شرحوں میں کمی کرکے انہیں 5 فیصد کیا گیا ہے، جس سے اِس شعبے کو بھی فائدہ ہورہا ہے۔ برآمدات کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیرِ موصوف نے کہا کہ حکومت نے، اِن مصنوعات میں 2031-32 تک ایک لاکھ کروڑ روپے کا نشانہ مقرر کیا ہے۔