صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے کہا کہ آدی کرم یوگی ابھیان گرام سبھائوں اور کمیونٹی کی قیادت والے اداروں کو بااختیار بناکر عوامی شراکت داری کے جذبے کو استحکام عطا کرتا ہے۔ انھوںنے کہا کہ قبائلی معاشرے میں بامعنی شراکت داری کے ذریعے قومی پالیسی پر اثر انداز ہوا جاسکتا ہے اور اسکیموں کو زیادہ موثر بنایا جاسکتا ہے۔ صدر جمہوریہ، نئی دلّی میں آج آدی کرم یوگی ابھیان کے موضوع پر قومی کانکلیو سے خطاب کر رہی تھیں۔ انھوں نے بہترین کارکردگی والی ریاستوں، ضلعوں، بلاکوں اور قبائلی ترقی کی مربوط ایجنسیوں کو ایوارڈ بھی پیش کئے۔ انھوں نے مزید کہا کہ آدی کرم یوگی ابھیان کایاپلٹ کردینے والے تصور کے ساتھ ہر قبائلی گائوں کو خودکفیل اور فخر سے سرشار ایک گائوں بنانے کیلئے شروع کیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اِس مہم کا مقصد اِس بات کو یقینی بنانا ہے کہ قبائلی معاشرے ملک کے ترقی کے سفر میں شریک ہوں اور ترقی کے فوائد تمام قبائلی علاقوں اور افراد تک پہنچیں۔
صدر جمہوریہ نے اعتماد ظاہر کیا کہ قبائلی ایکشن فریم ورک ملک کے قبائلی افراد کی ترقی میں اہم رول ادا کرے گا۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ حکومت قبائلی علاقوں اور رہائشی اسکولوں میں بنیادی ڈھانچے کو تیزی کے ساتھ وسعت دے رہی ہے اور قبائلی نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی غرض سے اسکالر شپ شروع کی گئی ہیں۔ یہ کانکلیو قبائلی امور کی وزارت کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا جو کہ جوابدہ اور شہریوں کی قیادت والی حکمرانی کی جانب بھارت کے سفر میں ایک فیصلہ کن گھڑی کی علامت ہے۔ کانکلیو میں توجہ کا موضوع ہے: قبائلی گائوں کا وژن 2030 تصور سے عمل آوری تک۔