صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے زور دے کر کہا کہ ثالثی کے ذریعے تنازعات کو حل کرنے کے طریقۂ کار کو مؤثر طور پر دیہی علاقوں تک وسعت دی جانی چاہیے تاکہ پنچایتوں کو قانونی طور پر با اختیار بنایا جاسکے کہ وہ ثالثی کے ذریعے گاؤوں میں تنازعات کو حل کرسکیں۔صدر جمہوریہ نے کہا کہ ملک کے استحکام میں سماجی ہم آہنگی لازمی شرط ہے۔ صدر جمہوریہ نے ان خیالات کا اظہار، بھارت منڈپم میں پہلی National Mediation کانفرنس 2025 کی افتتاحی تقریب میں Mediation Association of India کے آغاز کے موقعے پر کیا۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ ثالثی انصاف کی فراہمی میں ایک لازمی جزو کی حیثیت رکھتی ہے جو کہ بھارت کے آئین کی روح ہے۔انہوں نے کہا کہ ثالثی کے ذریعے نہ صرف زیر غور معاملات کے تحت مخصوص معاملات میں انصاف کی فراہمی میں تیزی لائی جاسکتی ہے بلکہ بڑی تعداد میں موجود عدالتی معاملات کے بوجھ کو کم کیا جاسکتا ہے۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ اس سے عدالتی نظام کو مزید فعال بنایا جاسکتا ہے، جس سے کاروبار کرنے اور رہن سہن میں سہولت پیدا کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ثالثی کو جب ہم اس نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں تو یہ 2047 تک وکست بھارت کے وژن کو حقیقت کی شکل دینے میں ایک کلیدی وسیلہ بن جاتا ہے۔صدر جمہوریہ نے کہا کہ ثالثی سے مذاکرات، افہام و تفہیم اور اشتراک کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔
Site Admin | May 3, 2025 9:47 PM
صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے انصاف کی فراہمی میں تیزی لانے اور سماجی ترقی میں ثالثی کے رول پر زور دیا ہے