December 22, 2025 10:22 AM | President Shanti Bill

printer

صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے SHANTI بل کو اپنی منظوری دے دی ہے، جسے پارلیمنٹ کے موسم سرما کے اجلاس کے دوران منظور کیا گیا تھا۔

صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے بھارت کی کایا پلٹ کیلئے ایٹمی توانائی کو پائیدار انداز سے بروئے کار لانے اور اِس کے فروغ سے متعلق SHANTI بل کو اپنی منظوری دے دی ہے، جسے پارلیمنٹ کے موسم سرما کے اجلاس کے دوران منظور کیا گیا تھا۔

مذکورہ بل میں سول ایٹمی شعبے سے متعلق سبھی قوانین کو اس میں شامل کیا گیا ہے اور اِس شعبے کو پرائیویٹ اداروں کی شمولیت کیلئے بھی کھول دیا گیا ہے۔SHANTI  بل کی رُو سے 1962 کا ایٹمی توانائی ایکٹ اور 2010 کا ایٹمی تلافی سے متعلق سول دینداری سے متعلق ایکٹ منسوخ ہو گئے ہیں، جو ملک میں سول ایٹمی شعبے کے فروغ میں رکاوٹ بن گئے تھے۔

مذکورہ قانون کی رُو سے پرائیویٹ کمپنیاں اور مشترکہ ادارے سرکار سے لائسنس کے تحت ایٹمی پاور پلانٹ تعمیر کر سکیں گے، اپنی ملکیت کے ساتھ انھیں آپریٹ کر سکیں گے اور انھیں بند کر سکیں گے۔

SHANTI ایکٹ 2025 سے بھارت کے ایٹمی قانونی فریم ورک کو مستحکم بنایا گیا ہے اور اِسے جدید طرز پر ڈھالا گیا ہے۔ اس کی رُو سے انضباطی نگرانی کے تحت ایٹمی شعبے میں محدود پرائیویٹ شمولیت کی گنجائش ہے۔ اِس کے ذریعے ایٹمی توانائی انضباطی بورڈ کو آئینی طور پر منظوری دے کر انضباطی نظام کو مضبوط بنایا گیا ہے۔ اِس سے ماحولیات کیلئے سازگار توانائی کی منتقلی کی جانب بھارت کے قدم اور 2047 تک 100 گیگاواٹ ایٹمی توانائی کی صلاحیت حاصل کرنے کے طویل مدتی مقصد کو حاصل کرنے میں سہولت ہوگی۔ SHANTI ایکٹ بھارت کے ایٹمی سفر کا اگلا مرحلہ طے کرنے میں اہم رول ادا کرے گا۔

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔