September 19, 2025 2:47 PM

printer

سیوا اور سُشاسن یعنی عوامی خدمت اور اچھی حکمرانی کے منتر پر قدم بڑھاتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں سرکار بڑی تبدیلی لانے اور ترقی کے لیے انتھک کام کررہی ہے

سیوا اور سُشاسن یعنی عوامی خدمت اور اچھی حکمرانی کے منتر پر قدم بڑھاتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں سرکار بڑی تبدیلی لانے اور ترقی کے لیے انتھک کام کررہی ہے۔ Seva Parv کے عنوان سے خصوصی سلسلے میں آج ہم اِس بارے میں بات کررہے ہیں کہ مودی سرکار نے کس طرح پورے ملک میں قبائلی برادریوں کو بااختیار بنانے کے عمل کو مستحکم کیا ہے اور اُن کے معیارِ زندگی کو بہتر بنایا ہے۔
بھارت دنیا کی سب سے زیادہ متحرک اور متنوع قبائلی آبادیوں میں سے ایک کا مسکن ہے، جہاں 10 کروڑ 45 لاکھ سے زیادہ قبائلی شہری رہتے ہیں، جو ملک کی کُل آبادی کا تقریباً 8 اعشاریہ 6 فیصد ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں قبائلی برادریوں کے لیے محض علامتی اقدامات نہیں کیے گئے بلکہ انہیں بااختیار بنانے کے لیے ایک واضح اور منصوبہ بند قدم اٹھایا گیا ہے۔
گزشتہ دہائی میں قبائلی امور کی وزارت کا بجٹ تین گنا بڑھ چکا ہے۔ 2013-14 میں وزارت کا بجٹ تقریباً 4 ہزار 300کروڑ روپے تھا، جو 2024-25 میں بڑھ کر 13 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔
”پردھان منتری جن جاتی آدی واسی نیائے ابھیان پی-ایم جن من“ ایک طاقتور مشن بن گیا ہے۔ یہ پہل 11 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ایک علاقے میں 75 قبائلی برادریوں کی زندگیوں کو بدل رہی ہے، جس سے 47 لاکھ سے زیادہ قبائلی لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس اسکیم کے لیے 24 ہزار کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔