سیوا اور سُشاسن یعنی عوامی خدمات اور بہتر حکمرانی کے منتر کے تحت وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت انقلابی تبدیلیوں اور ترقی کے لیے انتھک کام کر رہی ہے۔آج ’سیوا پَرْو‘ کی اس خصوصی سیریز میں ہم، اِس بات کا ذکر کر رہے ہیں کہ مودی حکومت نے بین الاقوامی شمسی توانائی کے ذریعے، بھارت کو ایک عالمی رہنما کا مقام حاصل کرایا۔
آب وہوا سے متعلق معاملات کے حل سے لے کر، ماحول کیلئے ساز گار توانائی تک، بھارت نے بین الاقوامی منظرنامے کو ایک شکل عطا کی ہے اور ساتھ ہی اپنے قومی مفادات کو بھی مقدم رکھا ہے۔ وزیر اعظم مودی کی قیادت نے اِن کوششوں میں ذمے داری اور سب کی شمولیت کو اہمیت دی ہے۔ اِس فلسفے کی بہترین عکاسی، بھارت کی، آب وہوا سے متعلق کوششوں سے ہوتی ہے جو وہ بین الاقوامی شمسی اتحاد یا ISA کے ذریعے کر رہا ہے۔ ISA کا آغاز وزیر اعظم مودی اور فرانس کے صدر Francois Hollande نے نومبر 2015 میں پیرس میں COP-21 کے دوران کیا تھا۔ ISA کا مقصد 2030 تک ایک ہزار ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری شمسی میدان میں کرنا ہے۔ نئی دلّی میں بین الاقوامی شمسی اتحاد کے پہلے اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا تھا کہ یہ اتحاد، دنیا کیلئے امید کی ایک بڑی کرن بن کر اُبھرا ہے۔
اُن ملکوں پر جنھوں نے بہت ہی کم ترقی کی ہے اور چھوٹے جزیروں والے ترقی یافتہ ممالک پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے ISA، کم لاگت والے اور یکسر تبدیلی لانے والے، توانائی کے طریقِ کار کے ذریعے کم کاربن والی ترقی کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ ایک سورج، ایک دنیا، ایک گِرڈ کی پہل کے تحت، جس کا آغاز بھارت نے کیا تھا، ایک عالمی شمسی گِرڈ کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد جنوبی ایشیا سے لے کر افریقہ اور یوروپ تک کے خطوں میں شمسی وسائل کو باہم مربوط کرنا ہے۔