سیوا اور سُشاسن کا منتر، جو کہ عوامی خدمت اور بہتر حکمرانی کا منتر ہے، کی رہنمائی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت کایاپلٹ کرنے اور ترقی کیلئے مسلسل کام کر رہی ہے۔ خصوصی سیریز ’سیوا پرو‘ کے تحت ہم آج آپ کو بتائیں گے کہ مودی سرکار نے دفاعی برآمدات کو کس طرح فروغ دیا ہے اور اہم ترین اشیا کی حصولیابی کو کس طرح مستحکم کیا ہے۔
نریندر مودی حکومت کے تحت بھارت کے دفاعی اور داخلی سلامتی کے نظام میں مضبوطی، وضاحت اور خودکفالت کی جانب ایک فیصلہ کن تبدیلی نظر آرہی ہے۔ دفاع کے شعبے میں ریکارڈ سرمایہ کاری، ملکی مصنوعات میں تیز رفتار ترقی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی میں بڑی اصلاحات اور اُنھیں اختیار کرنے کے ساتھ ہی بھارت ایک بڑے درآمدکار سے دفاعی سازوسامان کا ایک ابھرتا ہوا عالمگیر برآمد کار بن گیا ہے۔ پچھلی ایک دہائی میں دفاعی برآمدات میں 34 گنا اضافہ ہوا ہے اور یہ 2024-25 میں 23 ہزار 622 کروڑ روپئے ہوگیا ہے۔ صرف 2024-25 میں ہی ایک ہزار 700 برآمدات کے Authorisations کو منظوری دی گئی ہے۔ بھارت اب 100 ملکوں کو کئی قسم کے دفاعی آلات فراہم کرتا ہے، جن میں امریکہ، فرانس اور آرمینیا جیسے ملک شامل ہیں۔ ان اشیا میں بُلٹ پروف جیکٹ، گشت کیلئے کام آنے والی کشتیاں، ہیلی کاپٹر، راڈار اور یہاں تک کہ Torpedoes جیسے جدید ترین نظام بھی شامل ہیں۔ اِس برس 6 جون کو جموں وکشمیر کے کٹرہ میں ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ پچھلے دس برسوں میں بھارت دفاعی سازوسامان کا ایک بڑا برآمدکار بن گیا ہے اور اب ہدف یہ ہے کہ بھارت کا نام دنیا کے بڑے دفاعی برآمدات ملکوں میں شامل کرایا جائے۔
پچھلی ایک دہائی میں بھارت کی دفاعی پالیسی آتم نربھرتا کے اصول سے رہنمائی حاصل کرتی رہی ہے۔ دفاعی خریداری کے طریقۂ کار 2016 پر نظرثانی کرکے بنایا گیا دفاعی خریداری کا طریقۂ کار 2020 وزیر اعظم مودی کی قیادت والے آتم نربھر بھارت ابھیان سے پوری طرح وابستہ ہے۔یہ بھارت ہی میں ڈیزائن کردہ، تیار کردہ اور مینوفیکچر کردہ زمرے سے خریداری کو ترجیح دیتا ہے جس میں زیادہ سے زیادہ مقامی ڈیزائن، تیاری اور مینوفیکچرنگ پر انحصار کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ یہ بڑی تبدیلی آنے والے برسوں میں ہر طرح سے وکست بھارت بنانے کے حکومت کے پختہ عزم کو ظاہر کرتی ہے۔