October 18, 2025 9:32 AM | Gadkari Assocham

printer

سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے مرکزی وزیر نتن گڈکری نے کہا ہے کہ اِس سال کے آخر تک بھارت کی لاجسٹک لاگت ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار GDP کے 16 فیصد سے کم ہوکر واحد عدد میں رہ جائے گی۔

          سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے مرکزی وزیر نتن گڈکری نے کہا ہے کہ اِس سال کے آخر تک بھارت کی لاجسٹک لاگت ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار GDP کے 16 فیصد سے کم ہوکر واحد عدد میں رہ جائے گی۔ نئی دلّی میں آج ایسوچیم کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جناب گڈکری نے کہا کہ بھارت کی لاجسٹک لاگت فی الوقت اُس کے اہم مقابل ملک جیسے امریکہ اور چین کے مقابلے بہت زیادہ ہے، جس کی وجہ سے برآمدات میں رکاوٹ پیش آتی ہے۔ وزیر موصوف نے اِس بات کو اجاگر کیا کہ برآمدات میں اضافہ ملک کا اہم ترین ایجنڈا ہے جسے لاجسٹک لاگت میں کمی کرکے، نقل وحمل کی سہولیات کو بہتر بناکر اور ملک میں ہی مینوفیکچرنگ کو فروغ دے کر حاصل کیا جاسکتا ہے۔

          متبادل توانائی کے وسیلوں کی طرف بھارت کے بڑھتے ہوئے رجحان کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ بجلی اور توانائی کے سیکٹر کی جانب زراعت کے بڑھتے ہوئے تنوع سے روایتی ایندھن پر انحصار میں کمی اور درآمدات میں تخفیف کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ جناب گڈکری نے ملک کیلئے مستقبل کے ایندھن کے طور پر ہائیڈروجن کا بالخصوص ذکر کیا اور کہا کہ بھارت ماحولیات سے متعلق ذمے داریوں کو پورا کرتے ہوئے دنیا کو توانائی برآمد کرنے والا ملک بن سکتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ بھارت سڑکوں کی تعمیر کیلئے ایک زمانے سے جمع اپنے تمام ٹھوس کچرے کو 2027 تک استعمال کرلے گا۔

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔