آج سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات کیلئے ریاستوں سے بھاری معاوضہ ادا کرنے اور کتوں کو کھانے کی چیزیں دینے والوں کو جوابدہ بنانے کیلئے کہے گا۔ عدالت عالیہ نے گزشتہ پانچ برس سے آوارہ جانوروں کے سلسلے میں ضابطوں کے نفاذ کی کمی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ جسٹس وکرم ناتھ، سندیپ مہتا اور NV انجاریہ پر مشتمل بینچ نے کہا کہ کتوں کو کھانے کی چیزیں دینے والوں کو بھی کتوں کے کاٹنے کے واقعات کیلئے ذمے دار اور جوابدہ قرار دیا جائے گا۔ سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے عوامی مقامات پر آوارہ کتوں کو کھانے کی چیزیں دینے والے لوگوں اور تنظیموں کے طرز عمل پر یہ کہتے ہوئے سوال کیا کہ کیا یہ ہمدردی صرف جانوروں تک محدود ہے اور اِس کا اظہار انسانوں کیلئے نہیں کیا جانا چاہئے۔ عدالت عالیہ اُن مختلف درخواستوں پر سماعت کر رہی تھی جس میں 7 نومبر 2025 کے اُس کے حکم میں تبدیلی کی درخواست کی گئی ہے جس کے تحت حکام کو ادارہ جاتی علاقوں اور سڑکوں سے اِن آوارہ جانوروں کو ہٹانے کی ہدایت دی گئی تھی۔
Site Admin | January 13, 2026 9:39 PM
سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات کیلئے اُنھیں کھانے کی چیزیں دینے والوں کو جوابدہ قرار دیا جائے گا