سپریم کورٹ نے مختلف Tribunals کے اراکین کے تقرر، مدتِ کار اور خدمات سے متعلق شرائط کے 2021، ٹریبونل ریفارم Law کی مختلف شقوں کو آج کالعدم قرار دیا۔ چیف جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس کے ونود چندرن پر مشتمل بینچ نے کہا کہ شقیں، مرکز کی جانب سے معمولی تصحیح کے بعد دوبارہ قانونی شکلیں اختیار کر گئی ہیں۔ بینچ نے مزید کہا کہ زیرِ اعتراض التزامات، اختیارات کی تقسیم اور عدلیہ کی آزادی کے نظریے کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور انھیں واپس نہیں لایا جانا چاہیے۔ بینچ نے کہا کہ زیرِ التوا مقدمات سے نمٹنے کی ذمہ داری پوری طرح عدلیہ کی نہیں ہے اور یہ ذمہ داری حکومت کی دیگر شاخوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔
عدالت نے مدتِ کار سے متعلق پہلے کے عدالتی احکامات کو بحال کیا اور یہ واضح کیا کہ انکم ٹیکس اپیل ٹریبونل اور کسٹمز، ایکسائز اور سروس ٹیکس اپیل ٹریبونل کے اراکین، 62 سال کی عمر تک اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے، جبکہ چیئرپرسن اور صدور، 65 سال کی عمر تک اِن عہدوں پر فائز رہیں گے۔x