January 7, 2026 10:02 AM | SC CAQM

printer

سپریم کورٹ نے دلّی NCR میں آلودگی کے سبھی بڑے وسائل کی شناخت کی خاطر ہوا کے معیار کے بندوبست کے کمیشن کو دو ہفتے کا وقت دیا ہے اور طویل مدّتی شعبہ جاتی ایکشن پلان تجویز کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے ہوا کے معیار کے بندوبست کے کمیشن سے کہا ہے کہ وہ دو ہفتوں کے اندر آلودگی کے سبھی بڑے وسائل کی نشاندہی کرے اور طویل مدّتی شعبہ جاتی ایکشن پلان تجویز کرے تاکہ مرحلہ وار طریقے سے اُنہیں حل کیا جا سکے۔

بھارت کے چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس Joymalya Bagchi کی ایک بنچ نے کہا ہے کہ ہوا کے معیار کے بندوبست کے کمیشن کو، سبھی ماہرین کو یکجا کرنا چاہیے تاکہ وہ غور و خوض کے بعد طویل مدّتی حل نکال سکیں، جسے  روزگار، صنعت اور عوام کو نقصان پہنچائے بغیر مرحلے وار طریقے سے نافذ کیا جا سکے۔ اُس نے کہا ہے کہ آلودگی پر قابو پانے میں اس وجہ سے ناکامی ہوئی کیونکہ عدالت نے کئی ماہرین کے خیالات پر غور کیا، جنہوں نے ایک واضح اور ایک مربوط منصوبہ پیش کرنے کے بجائے مختلف ہدایات کو اُجاگر کیا۔

اس مقصد کیلئے ہوا کے معیار کے کمیشن کو دو ماہ کی مدّت کی ایڈیشنل سولیسیٹر جنرل ایشوریہ بھٹ کی درخواست پر بنچ کی طرف سے شدید ردّ عمل سامنے آیا، لیکن عدالت نے ہوا کے معیار کے بندوبست کے کمیشن کو مزید دو ہفتے کا وقت دیا ہے اور اُن سے اس ماہ کی 21 تاریخ تک ایک لائحہ عمل مانگا ہے۔×