سپریم کورٹ نے آج کہا ہے کہ وہ اراولی پہاڑی سلسلے میں کانکنی اور اِس سے وابستہ معاملوں کا مکمل اور جامع طور پر جائزہ لینے کیلئے ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے گی۔ سپریم کورٹ نے اِس بات کو نوٹ کیا کہ اراولی پہاڑی سلسلے میں غیرقانونی کانکنی کے ناقابلِ تلافی نقصان ہوسکتے ہیں۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وِپُل ایم پنچولی پر مشتمل بینچ نے ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل ایشوریہ بھاٹی اور Amicus Curiae، کے-پرمیشور کو ہدایت دی کہ وہ کانکنی کے شعبے کی مہارت رکھنے والے ماہرِماحولیات اور سائنسدانوں کے نام چار ہفتے کے اندر تجویز کریں تاکہ اِس معاملے کے پہلوؤں کا جائزہ لینے کیلئے ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جاسکے۔ بینچ نے مزید کہا کہ یہ کمیٹی، سپریم کورٹ کی زیرِ نگرانی اور اُس کی ہدایت کے مطابق کام کرے گی۔
عدالت نے 20 نومبر کے اپنے اُس حکم میں توسیع بھی کی، جس کے تحت اراولی پہاڑی سلسلے کے بارے میں اُس کی یکساں تشریح پر عارضی روک لگانے کی بات کہی گئی تھی۔ سماعت کے دوران بینچ نے راجستھان حکومت کی جانب سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل کے ایم نٹراج کی اُس یقین دہانی کو بھی ریکارڈ پر لیا، جس میں کہا گیا کہ اِس طرح کی کوئی غیرقانونی کانکنی نہیں ہوگی۔ x
Site Admin | January 21, 2026 10:05 PM
سپریم کورٹ نے خبردار کیا ہے کہ اراولی میں غیر قانونی کانکنی سے ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا ہے۔ عدالتِ عالیہ کانکنی اور اُس سے متعلق معاملات کے جائزے کیلئے ماہرین کا ایک پینل تشکیل دے گی۔