سپریم کورٹ نے انتخابی کمیشن کو بہار میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی SIR پر عمل کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ تاہم کورٹ نے انتخابی کمیشن سے یہ بھی کہا ہے کہ انصاف کے تقاضے کے طور پر اِس نظرثانی کے عمل کے دوران، انتخابی پینل کو پہچان کے اہم دستاویزات جیسے آدھار، راشن کارڈ اور ووٹر ID کارڈ کو بھی تسلیم کرنا چاہیے۔ اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ بہار میں انتخابی کمیشن کے ذریعے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی آئین کے مطابق ہے، جسٹس سدھانشو Dhulia اور جسٹس Joymalya Bagchi کی بینچ نے SIR کے وقت پر سوال اٹھائے۔ کورٹ نے سوال کیا کہ اِس مشق کو بہار اسمبلی انتخابات سے کیوں جوڑا جارہا ہے اور یہ مشق انتخابات سے علاحدہ پورے ملک میں کیوں نہیں کی جاسکتی۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ انتخابی کمیشن کے ذریعے شہریت سے متعلق اِس ضمن میں پہلے ہی کارروائی کی جانی چاہئے تھی۔ سنوائی کے دوران عرضی گزار نے کمیشن کے اُس فیصلے پر سوالات اٹھائے تھے جس میں SIR کی دستاویزات کی فہرست میں سے آدھار کارڈ کو نکال دیا گیا تھا۔ انتخابی کمیشن نے اِس بات پر بحث کی کہ بھارت میں ووٹر ہونے کیلئے شہریت کی جانچ کرنے کی خاطر آدھار کو شہریت کا ثبوت نہیں مانا جاسکتا۔ اس پر عدالت عظمی نے کہا کہ اگر شہریت کی جانچ کرنا مقصود تھا تو انتخابی کمیشن کو پہلے ہی اس پر عمل کرنا چاہئے تھا۔ سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ شہریت کے معاملات وزارت داخلہ کے قوانین کے تحت آتے ہیں۔
اس بات کو نوٹ کرتے ہوئے کہ نظرثانی شدہ انتخابی فہرستیں اگست میں جاری کی جائیں گی، سپریم کورٹ نے باقاعدہ بینچ کے سامنے 28 جولائی کو اس معاملے کی اگلی سنوائی طے کی ہے۔ اُس نے انتخابی کمیشن سے ایک ہفتے کے اندر جوابی حلف نامہ داخل کرنے کو کہا ہے اور عرضی گذاروں سے کہا ہے کہ وہ اگلی سنوائی سے قبل، پھر سے شامل ہونے سے متعلق حلف نامہ داخل کریں، اگر اس کی ضرورت ہو تو۔ پیر کے روز سپریم کورٹ نے بہارمیں خصوصی جامع نظرثانی کے خلاف عرضداشتوں پر فوری سنوائی کرنے سے اتفاق کرلیا تھا۔ کورٹ میں کئی عرضداشتیں داخل کی گئی ہیں جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر انتخابی کمیشن کے SIR پر عمل پر روک نہیں لگائی گئی تو یہ لاکھوں ووٹروں کو انتخابی عمل میں شامل ہونے کے حق سے محروم کردے گا۔
انتخابی فوٹو شناختی کارڈ EPIC نمبر اندراج کے فارموں پر پہلے سے چھپا ہوا ہوتا ہے۔ SIR کی گائیڈ لائن میں کہا گیا ہے کہ عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والوں سمیت موجودہ ووٹر اندراج فارم انتخابی کمیشن کی ویب سائٹ voters.eci.gov.inسے ڈائون لوڈ کرسکتے ہیں۔ اور اس کا پرنٹ نکال کر دستخط کرنے کے بعد یہ فارم اپنے متعلقہ BLO کو 25 جولائی سے پہلے بھیجا جاسکتا ہے تاکہ اُن کا نام انتخابی فہرستوں کے مسودے میں شامل کیا جاسکے۔