سپریم کورٹ نے انتخابی کمیشن کی جانب سے نوٹیفائی شیڈول کے مطابق خصوصی نظرثانی مہم کے تحت بہار میں یکم اگست کو انتخابی فہرستوں کے مسودے شائع کرنے کے فیصلے پر روک لگانے سے انکار کردیا ہے۔جسٹس کانت کی چیف جسٹس کے ساتھ انتظامی میٹنگ کی وجہ سے جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالا باگچی کی بینچ تفصیلی سماعت نہیں کرپائی۔ تاہم انہوں نے عرضی گزاروں کو معاملے کی جلد از جلد سماعت کی یقین دہانی کرائی اور وکیلوں سے آج جرح کیلئے ممکنہ وقت بتانے کو کہا۔ عرضی گزاروں نے یہ الزام بھی لگایا کہ انتخابی کمیشن، سپریم کورٹ کے 10 جولائی کے اس حکم کی پاسداری نہیں کررہا ہے، جس میں تصدیق کیلئے آدھار، الیکشن کارڈ اور راشن کارڈ کو ملحوظ خاطر رکھنے کی ہدایت دی گئی تھی۔انتخابی کمیشن نے اپنے حلف نامے میں ان دستاویزات خصوصا جعلی راشن کارڈز سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا تھا۔بینچ نے کمیشن کو زبانی طور پر ہدایت دی ہے کہ وہ کم از کم آدھار اور الیکشن کارڈ جیسے قانونی دستاویزات کو قبول کرے۔×
Site Admin | July 29, 2025 9:44 AM
سپریم کورٹ نے انتخابی کمیشن کی جانب سے خصوصی نظرثانی مہم کے کے تحت مسودے شائع کرنے کے فیصلے پر روک لگانے سے انکار کردیا ہے