سرگرم حکمرانی اور بروقت نفاذ کیلئے وزیر اعظم کے اہم پلیٹ فارم PRAGATI نے اپنی 50 ویں میٹنگ کے کامیاب انعقاد کے ساتھ ایک اہم سنگِ میل طے کیا ہے۔ 2015 میں وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے اِسے شروع کیے جانے کے بعد سے PRAGATI نے بروقت قریبی نظر رکھ کر، اہم بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں پر عمل درآمد کر کے اور وزیر اعظم کی طرف سے براہِ راست جائزے کے تحت عوامی شکایات کو دور کرنے کا اہل بنا کر حکمرانی کو یکسر تبدیل کیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم امدادِ، باہمی پر مبنی وفاقیت کی نظیر پیش کرتا ہے اور ایک سنگل ڈیجیٹل انٹرفیس پر مرکز، ریاستوں اور مرکزی وزارتوں کو یکجا کرتا ہے۔
پچھلی ایک دہائی میں PRAGATI نے تیز فیصلے کرنے اور مسائل کو حل کرنے میں مدد دی ہے، جو اہم بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں میں تاخیر کا سبب بنتے ہیں اور جوابدہی کے ایک مضبوط کلچر کی تلقین کو فروغ دیتا ہے۔
آج، اِس خصوصی سیریز میں ہم حیدرآباد میٹرو ریل پروجیکٹ کا جائزہ لے رہے ہیں۔
تلنگانہ کی راجدھانی حیدرآباد، گزشتہ 2 دہائیوں میں بھارت کی سب سے متحرک شہری معیشتوں میں سے ایک کے طور پر اُبھرا ہے۔ اِس عرصے کے دوران، مواصلاتی ٹیکنالوجی، ادویہ، پیداوار اور خدمات کے شعبے میں بڑی ترقی رونما ہوئی ہے۔
حیدرآباد میٹرو ریل پروجیکٹ کو عوام کیلئے نقل و حرکت کے تیز رفتار اور بڑی صلاحیت والے نظام کے طور پر شروع کیا گیا تھا اور اِس کا مقصد، حیدرآباد کیلئے شہری نقل و حرکت کا قابل انحصار، موثر اور پائیدار ذریعہ فراہم کرنا تھا۔
حیدرآباد میٹرو کا پہلا مرحلہ 69 اعشاریہ 2 کلومیٹر کے بڑی صلاحیت والے 3 کوریڈور پر مشتمل ہے۔
مذکورہ پروجیکٹ کا 30 دسمبر 2015 کو وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت والے پرگتی میکانزم کے تحت، سب سے بڑی سطح پر جائزہ لیا گیا تھا۔
وزیر اعظم نے متعدد فیصلہ کن ہدایات جاری کیں، تاکہ ادارہ جاتی اور معاشی رکاوٹیں اِس کے آغاز میں حائل نہ ہوں۔ پروجیکٹ کی PPP ساخت کے مدِّ نظر، تلنگانہ کی حکومت، معاشی امور کے محکمے ار شہری ترقی کی وزارت کو میٹرو کے بلا روکاوٹ اور بروقت آغاز اور نفاذ کو یقینی بنانے کیلئے احکامات جاری کیے گئے۔ اِس کی بدولت متعدد اداروں نے منظم اقدامات کیے اور اِس بات کو یقینی بنایا کہ اِن اقدامات سے اِس بڑے پروجیکٹ کا نفاذ کیا جائے۔
پرگتی کے تحت کیے گئے اقدامات سے پروجیکٹ کے انتہائی اہم مرحلے میں پیش رفت ہوئی۔ اِس بات کو یقینی بنایا گیا کہ پروجیکٹ کے آغاز اور نفاذ میں تاخیر پیدا کرنے والے عوامل کو دور کیا جائے۔
نتیجتاً، حیدرآباد میٹرو اپنے تینوں کوریڈور میں منظم طریقے سے پیش رفت کر پائی اور وہ آہستہ آہستہ عوام کیلئے کھلنے لگے اور لوگ اِن میں سفر کرنے لگے۔ حیدرآباد میٹرو سے سفر میں لگنے والا وقت کم ہوا ہے، سفر اور زیادہ محفوظ ہوا ہے اور اِس سے گاڑیوں کے نجی استعمال کا قابل بھروسہ متبادل ملا ہے۔