سرگرم حکمرانی اور بروقت نفاذ سے متعلق وزیر اعظم کے سرکردہ پلیٹ فارم PRAGATI نے اپنی 50 ویں میٹنگ کے کامیاب انعقاد کے ساتھ ایک اہم سنگِ میل طے کیا ہے۔

سرگرم حکمرانی اور بروقت نفاذ سے متعلق وزیر اعظم کے سرکردہ پلیٹ فارم PRAGATI نے اپنی 50 ویں میٹنگ کے کامیاب انعقاد کے ساتھ ایک اہم سنگِ میل طے کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے 2015 میں اس کا آغاز کیا تھا اور اُس وقت سے PRAGATI پلیٹ فارم نے وزیر اعظم کے براہِ راست جائزے کے ذریعے حکمرانی کے عمل کی کایا پلٹ کی ہے اور ایسا بروقت نگرانی اور بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں اور دیگر عوامی شکایات کا ازالہ کر کے کیا گیا ہے۔

یہ پلیٹ فارم امدادِ باہمی سے متعلق وفاقیت کی مثال پیش کرتا ہے اور مرکز، ریاستوں اور مرکزی وزارتوں کو ایک واحد ڈیجیٹل رابطہ فراہم کرتا ہے۔ایک دہائی سے زائد عرصے میں پرگتی نے فیصلہ سازی میں تیزی اور کلیدی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں تاخیر کا سبب بننے والے اُمور کو حل کرکے جوابدہی کے مضبوط نظام کو قائم کیا ہے۔ آج اس خصوصی سیریز کے تحت ہم بجلی کے شعبے کے منصوبوں پر ایک نظر ڈالیں گے۔

بجلی کے شعبے میں، پروجیکٹوں میں تاخیر ہونے کے پیچھے اکثر و بیشتر انتظامی، تکنیکی، انضباطی اور کچھ فطری عوامل کو اس کی وجہ بتایا جاتا ہے۔ اِن میں زمین تحویل میں لینے، جنگلات، محکمہئ دفاع سے منظوری اور دشوار راستے سے متعلق معاملات شامل ہیں۔ پرگتی نظام کے تحت مختلف سطحوں پر 10 لاکھ 53 ہزار کروڑ روپے مالیت کے 237 بجلی پروجیکٹوں کا جائزہ لیا گیا، جنہیں شروع کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم کی سطح پر 4 لاکھ  12 ہزار کروڑ روپے مالیت کے 53 بجلی پروجیکٹوں کا جائزہ  لیا گیا۔ اِن میں 27 ترسیلی پروجیکٹ، 14 حرارتی، 9 پَن بجلی اور 3 کوئلہ کانوں کے پروجیکٹ شامل ہیں۔ اِن میں سے 3 لاکھ کروڑ روپے مالیت کے 43 پروجیکٹ شروع ہو چکے ہیں، جو تاخیر کا شکار تھے، جبکہ بقیہ دیگر پروجیکٹ بھی شروع ہونے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ وزیر اعظم نے اصلاحات کو مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ پروجیکٹوں میں کوئی تاخیر نہ ہو۔ اسی تناظر میں پرگتی کے تحت نگرانی کے ذریعے مختلف محکموں کے درمیان تاخیر کو کم سے کم کیا گیا ہے اور اس طرح بجلی پروجیکٹوں کے نفاذ میں کافی بہتری آئی ہے۔

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔