January 8, 2026 9:48 PM

printer

سرگرم حکمرانی اور بروقت نفاذ سے متعلق وزیر اعظم کے سرکردہ پلیٹ فارم PRAGATI نے اپنی 50 ویں میٹنگ کے کامیاب انعقاد کے ساتھ ایک اہم سنگِ میل طے کیا ہے۔

سرگرم حکمرانی اور بروقت نفاذ سے متعلق وزیر اعظم کے سرکردہ پلیٹ فارم PRAGATI نے اپنی 50 ویں میٹنگ کے کامیاب انعقاد کے ساتھ ایک اہم سنگِ میل طے کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے 2015 میں اس کا آغاز کیا تھا اور اُس وقت سے PRAGATI پلیٹ فارم نے وزیر اعظم کے براہِ راست جائزے کے ذریعے حکمرانی کے عمل کی کایا پلٹ کی ہے اور ایسا بروقت نگرانی اور بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں اور دیگر عوامی شکایات کا ازالہ کر کے کیا گیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم امدادِ باہمی سے متعلق وفاقیت کی مثال پیش کرتا ہے اور مرکز، ریاستوں اور مرکزی وزارتوں کو ایک واحد ڈیجیٹل رابطہ فراہم کرتا ہے۔
آج ہم اِس خصوصی سیریز کے تحت ملک کے شہری منظرنامے کی کایہ پلٹ کرنے والے ہائوسنگ اور بنیادی ڈھانچے کے شعبے کے اقدامات پر نظر ڈالیں گے۔
بھارت کی شہری کایا پلٹ، معاشی نمو اور سماجی تبدیلی کے بڑے محرک کے طور پر اُبھر رہی ہے۔ فی الوقت 48 کروڑ سے زیادہ لوگ شہری علاقوں میں بسے ہوئے ہیں اور اِس تعداد کے سال 2030 تک 60 کروڑ تک پہنچ جانے کا اندازہ ہے۔ شہروں میں بسنے کی اِس تیز رفتار کی وجہ سے ہائوسنگ، ٹرانسپورٹ، پانی اور صفائی، اور حکمرانی پر دبائو بڑھتا جارہا ہے۔ گزشتہ دہائی کے دوران، ہائوسنگ اور شہری امور کی وزارت نے شہری ترقی کیلئے مشن موڈ طریقۂ کار اپنایا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے پرگتی کی 12 میٹنگوں کے دوران، سات اہم شہری اسکیموں کا جائزہ لیا، جو اِن کی اسٹریٹجک اہمیت اور اعلیٰ ترین سطح پر جامع نگرانی کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اِن پروجیکٹوں میں پردھان منتری آواس یوجنا شہری، اِسمارٹ سٹی مشن اور ریڑھی پٹری والوں کو آتم نربھر بنانے کی وزیر اعظم کی نِدھی اسکیم شامل ہیں۔ 
پردھان منتری آواس یوجنا شہری کے تحت ملک بھر میں ایک کروڑ 18 لاکھ سے زیادہ مکانات کو منظوری دی تھی، جن میں سے 88 لاکھ پہلی ہی مکمل ہوچکے ہیں۔ اسمارٹ سٹی مشن بھی سو شہروں کا احاطہ کرتے ہوئے اگلے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ پی ایم سوانِدھی کے ذریعے شہری گزر بسر پر توجہ مرکوز کی گئی اور 13 ہزار 800 کروڑ روپے پر مبنی 96 لاکھ قرضۂ جات، 80 لاکھ ریڑھی پٹری والوں میں تقسیم کیے گئے۔ ہائوسنگ اور شہری امور پر وزیر اعظم کے وِژن میں شمولیت، پائیداریت اور ٹیکنالوجی سے لیس شہروں پر زور دیا گیا ہے تاکہ سبھی کیلئے باوقار زندگی اور معاشی مواقع یقینی بنائے جاسکیں۔