سرگرم حکمرانی اور بروقت نفاذ سے متعلق وزیر اعظم کے سرکردہ پلیٹ فارم PRAGATI نے اپنی 50 ویں میٹنگ کے کامیاب انعقاد کے ساتھ ایک اہم سنگِ میل طے کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے 2015 میں اس کا آغاز کیا تھا اور اُس وقت سے PRAGATI پلیٹ فارم نے وزیر اعظم کے براہِ راست جائزے کے ذریعے حکمرانی کے عمل کی کایا پلٹ کی ہے اور ایسا بروقت نگرانی اور بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں اور دیگر عوامی شکایات کا ازالہ کر کے کیا گیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم امدادِ باہمی سے متعلق وفاقیت کی مثال پیش کرتا ہے اور مرکز، ریاستوں اور مرکزی وزارتوں کو ایک واحد ڈیجیٹل رابطہ فراہم کرتا ہے۔آج ہم اِس خصوصی سیریز کے تحت اروناچل پردیش میں Kameng پن بجلی پروجیکٹ کا جائزہ لیں گے۔
اروناچل پردیش کے مغربی Kemang ضلع میں واقع Kemang پن بجلی پروجیکٹ 600 میگاواٹ کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بجلی کی وزارت کے تحت اِسے شمال مشرق کی الیکٹرک پاور کارپوریشن لمیٹڈ نے نافذ کیا تھا۔ اِس کا تصور 150 میگاواٹ کے چار یونٹ اسکیم کے تحت کیا گیا تھا اور اِسے شمال مشرقی خطے میں پن بجلی ترقیاتی حکمت عملی کا ایک اہم جزو قرار دیا گیا۔اس پروجیکٹ کا 24 جون 2015 میں پرگتی کے تحت وزیر اعظم نریندر مودی نے جائزہ لیا تھا۔ وزیر اعظم نے اِس پروجیکٹ کا کام جلد مکمل ہونے کی ضرورت پر زور دیا تھا اور بجلی کی وزارت کو ہدایت دی تھی کہ وہ اِسے جلد سے جلد مکمل کرنے کو یقینی بنائے۔پرگتی نے طویل عرصے سے رُکاوٹ بن رہے معاملات کے ازالے کیلئے مرکزی وزارتوں اور ریاستی حکومت کے درمیان تال میل کی خاطر ایک ڈھانچہ جاتی طریقہ کار فراہم کیا۔ آٹھ ہزار 458 کروڑ روپئے سے زیادہ کی لاگت سے اِس پروجیکٹ کو منظور کیا گیا اور اِس پر 100 فیصد پیشرفت ہوئی اور 10 فروری 2021 کو اِس کا آغاز ہوا۔ Kemang پروجیکٹ کی بدولت اروناچل پردیش بجلی کی وافر مقدار والی ریاست بن گئی، جس سے علاقائی اور قومی گِرڈ کو بجلی کی زیادہ سپلائی یقینی بن گئی۔