سرگرم حکمرانی اور بروقت نفاذ سے متعلق وزیر اعظم کے سرکردہ پلیٹ فارم PRAGATI نے اپنی 50 ویں میٹنگ کے کامیاب انعقاد کے ساتھ ایک اہم سنگِ میل طے کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے 2015 میں اس کا آغاز کیا تھا اور اُس وقت سے PRAGATI پلیٹ فارم نے وزیر اعظم کے براہِ راست جائزے کے ذریعے حکمرانی کے عمل کی کایا پلٹ کی ہے اور ایسا بروقت نگرانی اور بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں اور دیگر عوامی شکایات کا ازالہ کر کے کیا گیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم امدادِ باہمی سے متعلق وفاقیت کی مثال پیش کرتا ہے اور مرکز، ریاستوں اور مرکزی وزارتوں کو ایک واحد ڈیجیٹل رابطہ فراہم کرتا ہے۔آج ہم اِس خصوصی سیریز کے تحت کرناٹک میں واقع خام تیل کو ذخیرہ کرنے کے کلیدی Padur پروجیکٹ کا جائزہ لیں گے۔
دو اعشاریہ پانچ ملین میٹرک ٹن کی صلاحیت والا خام تیل کو ذخیرہ کرنے کا اہم Padur پروجیکٹ، بھارت کے اہم پیٹرولیم ریزرو کے پہلے مرحلے کے پروگرام کا ایک اہم حصہ تھا۔ اس پروجیکٹ میں مختلف پیچیدگیوں کے سبب غیرمعینہ عرصے کیلئے اِس کے آغاز میں تاخیر کا خطرہ لاحق تھا۔ 22 اپریل 2015 کو یہ معاملہ وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر صدارت پرگتی کے تحت جائزے کیلئے زیر غور آیا۔ 23 مارچ 2016 کو ایک مرتبہ پھر اس کا جائزہ لیا گیا۔ اِن جائزوں کے دوران پروجیکٹ کے نفاذ کا معائنہ کیا گیا اور حکومت کرناٹک کو، خاص طور سے یہ ہدایت دی گئی کہ وہ خام تیل کی پائپ لائن اور اُس سے متعلق بجلی کی ترسیل کی لائن کے استعمال کا حق فراہم کرے۔ اس کے نتیجے میں 31 دسمبر 2018 کو اِس پروجیکٹ کا آغاز کیا گیا اور یہ پرگتی پر مبنی حکمرانی کی ایک بہترین مثال بن گیا ہے جو بروقت نتائج پر مبنی ہیں۔