سرگرم حکمرانی اور بروقت نفاذ سے متعلق وزیراعظم کے فلیگ شپ پلیٹ فارم ”پرگتی“ نے اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے کامیابی سے اپنی 50 ویں میٹنگ منعقد کی۔
وزیراعظم مودی کے ذریعے سال 2015 میں اپنے آغاز سے ہی پرگتی نے وزیراعظم کی سیدھی نگرانی کے تحت حقیقی وقت میں نگرانی اور اہم بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں اور عوامی شکایات کے ازالے کے ذریعے حکمرانی کی کایا پلٹ کی ہے۔ آج اپنی خصوصی سیریز میں ہم Lumding-Silchar براڈ گیج کنورژن پروجیکٹ کا جائزہ لیں گے۔
Lumding-Silchar براڈ گیج ریلوے لائن جنوبی آسام کے لئے اسٹرٹیجک اعتبار سے اہم ریل بنیادی ڈھانچہ راہداری ہے جو تریپورہ، منی پور اور میزورم جیسی پہاڑی ریاستوں کو ضروری ریل رابطے فراہم کرتی ہے۔ یہ لائن خطے میں غذائی اجناس، کھاد، پیٹرولیم مصنوعات، تعمیراتی سازوسامان اور دیگر ضروری اشیا کی حمل و نقل کیلئے بے حد اہم ہے۔ Lumding-Silchar گیج کنورژن پروجیکٹ کو 1996-97 میں منظوری دی گئی جس کے بعد اسے سال 2004 میں قومی پروجیکٹ قرار دیا گیا۔ اپنی اہمیت کے باوجود شروعاتی برسوں میں سرمائے کی کمی، مشکل جغرافیائی حالات اور شورش کی وجہ سے رخنہ اندازی کے سبب سال 2006سے 2009 کے درمیان اِس پروجیکٹ کے طویل مدتی نفاذ میں چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔
وزیراعظم نے پرگتی طریقہئ کارکے تحت 25 مارچ 2015 کو ایسے وقت میں اِس پروجیکٹ کا جائزہ لیا جب زمینی پیشرفت بے حد کم تھی۔ اِس کے بعد وزیراعظم کی رہنمائی میں پروجیکٹ پر خاطر خواہ توجہ مرکوز کی گئی، جس میں بین ایجنسی تال میل، سخت نگرانی اور مقررہ مدت میں عمل آوری شامل ہیں۔ پروجیکٹ کے پہلے مرحلے کو مارچ 2015 میں اُس وقت بڑی کامیابی ملی جب براڈ گیج کام مکمل ہوگئے اور اِسے سازوسامان کی آمدروفت کیلئے کھول دیا گیا۔ اِس کے بعد کچھ ہی عرصے میں اِس راستے پر مسافر خدمات بھی شروع ہوگئیں۔
اِس کے بعد دوسرا مرحلہ مکمل ہوا اور ایک مارچ 2017 کو مکمل راہداری شروع ہوگئی۔