سرکار نے کہا ہے کہ Aravalli پہاڑی سلسلے کے ماحولیاتی نظام کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ 90 فیصد سے زیادہ خطہ محفوظ زون میں ہے۔

سرکار نے کہا ہے کہ Aravalli پہاڑی سلسلے کے ماحولیاتی نظام کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ماحولیات، جنگلات اور آب و ہوا کی تبدیلی کے محکمے کی وزارت نے کہا ہے کہ جنگل بانی کے موجودہ عمل، ماحولیات کیلئے سازگار زون سے متعلق نوٹیفکیشنز نیز کانکنی اور شہری سرگرمیوں کی سخت نگرانی کے ذریعے اِس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ اراولی پہاڑی سلسلہ فطری وراثت اور ملک کیلئے ماحولیاتی ڈھال کے طور پر برقرار رہے۔

ماحولیات کے مرکزی وزیر بھوپیندر یادو نے کہا ہے کہ 100 میٹر کے تعلق سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی جا رہی ہے۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اراولی کے بارے میں غلط باتیں پھیلانے کا سلسلہ بند کریں۔

جناب بھوپیندر یادو نے کہا کہ اراولی پہاڑی سلسلے کا مجموعی رقبہ ایک لاکھ 47 ہزار مربع کلومیٹر ہے اور محض    صفر اعشاریہ ایک – نو فیصد علاقے میں ہی کانکنی کی اجازت ہے۔ جناب یادو نے کہا کہ عدالت عالیہ کے فیصلے کے مطابق اراولی کا 90 فیصد علاقہ محفوظ زون کے دائرے میں آتا ہے اور اِس معاملے میں کوئی نرمی نہیں کی گئی ہے۔

اراولی پہاڑی سلسلہ دلی، ہریانہ، راجستھان اور گجرات سمیت ملک کی چار ریاستوں میں پھیلا ہوا ہے۔

جناب بھوپیندر یادو نے زور دے کر یہ بھی کہا کہ دلی کی اراولی پہاڑیوں میں کسی طرح کی کانکنی کی اجازت نہیں ہے۔x

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔