سال 2025، بھارت کے ترقی کے سفر میں ایک اہم باب ہے۔ اِس کے دوران پالیسیوں کی بنیاد پر ترقی ہوئی اور اُس کا اثر دیکھنے کو ملا۔
”اصلاحات کے سال“ کے عنوان سے اِس خصوصی سیریز میں آج ہماری نامہ نگار نے، 2025 میں دفاع کے شعبے میں بھارت کی ترقی سے متعلق ایک رپورٹ پیش کی ہے۔
2025 میں بھارت نے وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں اپنے قومی سلامتی کے فریم ورک کو فیصلہ کُن طریقے سے جامع بنایا ہے۔ اِس سال کے دوران حکومت نے دہشت گردی کے بارے میں واضح طور پر پانچ سخت معمول بنائے ہیں۔ یہ ہیں: دہشت گردانہ حملوں کا سخت جواب، نیوکلیائی ہتھیاروں کا ذکر کرکے بلیک میل کیے جانے کے تئیں ہرگز برداشت نہ کرنے کا رویہ، دہشت گردوں اور اُن کے آقاؤں کے درمیان کوئی فرق نہ کرنا، کسی بھی مذاکرے میں سب سے پہلے دہشت گردی پر بات کرنا اور خود مختاری کے بارے میں ایسا موقف اختیار کرنا جس میں کوئی سمجھوتہ نہ کیا گیا ہو۔
اِس موقف کا اظہار سب سے زیادہ آپریشن سندور کے ذریعے کیا گیا۔ 7 مئی کو بھارت نے، پہلگام دہشت گردانہ حملے کے جواب میں پچھلی پانچ دہائیوں میں سب سے اہم فوجی کارروائی انجام دی۔
بھارتی فوج نے پاکستان کے بالکل اندر علاقوں میں دہشت گردی کے ڈھانچے کو تباہ کیا اور تقریباً 100 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ 10 مئی کو پاکستان کے 11 ٹھکانوں پر بڑی احتیاط کے ساتھ حملے کیے گئے اور بھارت کا ایک بھی میزائل تباہ نہیں ہوا۔ اِس کارروائی سے ملک ہی میں تیار کیے گئے ہتھیاروں کی طرف دنیا کی توجہ کافی زیادہ مبذول ہوئی۔ برہموز سپر سونِک میزائل، رافیل جنگجو طیارے اور ڈرونز اس مربوط کارروائی میں استعمال کیے گئے، جس سے بھارت کی ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی مضبوطی کا اظہار ہوتا ہے۔
سال 2025-26 میں دفاعی سامان کی تیاری ایک لاکھ 54 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ ہوگئی اور دفاعی بجٹ 6 لاکھ 81 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔
اِسی دوران اترپردیش اور تملناڈو کی دفاعی صنعتی راہداریوں کی طرف کافی زیادہ سرمایہ راغب ہوا جو 9 ہزار ایک سو کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ اِس شعبے میں 289 مفاہمت ناموں پر دستخط کیے گئے۔ سال ختم ہونے والا ہے، بھارت نے تیاری، ٹیکنالوجی کے میدان میں اعتماد اور مستحکم دفاع کے ایک فریم ورک کو آگے بڑھایا ہے جس سے قومی سلامتی اور دفاعی خود کفالت کے اِس کے مضبوط عزم کا اظہار ہوتا ہے۔