سال 2025، بھارت کی ترقی کے سفر میں ایک اہم باب ہے۔ اِس کے دوران پالیسیوں کی بنیاد پر ترقی کی گئی اور ارادوں کے اثرات سامنے آئے۔
آج اپنی اِس خصوصی سیریز ”اصلاحات کے سال“ کے تحت ہم اِس بات کا ذکر کر رہے ہیں کہ کس طرح بھارت 2025 میں دنیا کی پیداوار کے ایک نئے قائد کے طور پر اُبھرا ہے۔
اِس سال بھارت نے اپنے صنعتی اور اقتصادی سفر میں 7 اعشاریہ 8 فیصد کے ترقی کے نشانے کو حاصل کیا۔ ملک نے سب سے تیز ترقی کرنے والی مارکیٹ اور پیداوار کے ایک بڑے عالمی مرکز کی حیثیت حاصل کی، جس میں غیر ملکی راست سرمایہ کاری اور صنعتی صلاحیت میں اضافہ ہوا۔ اِس سال نوئیڈا میں، ٹیمپرڈ گلاس بنانے والی بھارت کی پہلی فیکٹری کا افتتاح کیا گیا، جس کے بعد اب بھارت پیچیدہ سامان بھی تیار کرنے لگا ہے۔ اسی طرح توانائی کے شعبے میں ملک نے، 100 گیگاواٹ کی، شمسی مینوفیکچرنگ صلاحیت حاصل کر کے ایک بڑا سنگِ میل طے کیا۔ اسی دوران شمسی ماڈیول کی تیاری میں تیزی سے ترقی ہوئی۔ 2014 میں یہ صلاحیت 2 اعشاریہ 3 گیگاواٹ تھی، جبکہ 2025 میں یہ 100 گیگاواٹ ہو گئی۔
اِس سال ایوئیشن سے متعلق سامان کی تیاری میں بھی اضافہ ہوا اور تقریباً 2 ہزار 200 نئے طیارے شامل کیے گئے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی سرپرستی میں کی جانے والی اصلاحات سے، حکمرانی کے ایک فریم ورک کی تشکیل جاری ہے۔ GST کے دوسرے مرحلے کے تحت، اسے معقول بنا کر 5 اور 18 فیصد کے ٹیکس زمرے بنائے گئے ہیں، جس کے سبب مصنوعات سازی پر آنے والی لاگت بھی کم ہو گئی ہے۔